خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 460

خطبات مسرور جلد 14 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 جس رنگ میں جماعت تربیت کرتی ہے اس کا بڑا اثر ہے۔اور یہ بات تمام احمدی والدین کو یاد رکھنی چاہئے اور جماعتی نظام کو بھی یادرکھنی چاہئے۔مربیان اور معلمین کو بھی یادر کھنی چاہئے کہ بچوں کی تربیت کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دیں۔ایک تو آئندہ نسل کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہمارے سپر د ہے۔دوسرے بچوں کے ذریعہ سے ہی تبلیغ کے بھی اور تربیت کے بھی مزید راستے کھلتے ہیں۔ہمسایوں کا حق ادا کرنا اسلام کی بنیادی تعلیم ہے اور قرآن شریف میں بھی اس کا حکم ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے۔آئیوری کوسٹ سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع آدما(Adama) صاحب اس سال بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ قبول احمدیت سے قبل میں دیگر غیر از جماعت مساجد میں نماز پڑھتا تھا اور میں نے احمدیت کے بارے میں اس قدر منفی باتیں سن رکھی تھیں کہ احمد یہ مسجد کے قریب ہونے کے باوجود میں دوسری مسجد جا کر نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔کہتے ہیں ایک مرتبہ جب میں سخت بیمار ہوا تو احمد یہ مسجد کے امام میری عیادت کے لئے آئے۔اس بات کا میرے دل پر غیر معمولی اثر ہوا۔صحتمند ہونے کے بعد میں نے احمد یہ مسجد جاکر نماز پڑھنا شروع کر دی اور مسجد میں ہونے والے درسوں اور خطبات کے ذریعہ احمدیت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں تو دل اس یقین پر قائم ہو گیا کہ اگر آج کوئی جماعت قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کار بند ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی ہے۔چنانچہ میں نے بیعت کر لی اور بیعت کرنے کی وجہ سے میرے بچوں نے بھی جماعت میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔اب کہتے ہیں میرا بیٹا جو سیکنڈری سکول میں پڑھ رہا ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ سیکنڈری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرے اور بطور واقف زندگی خدمت دین بجالائے۔جس طرح مخالفین ہمارے راستے میں روکیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، مخالفت میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے منہ بند کرنے کے سامان بھی کر رہا ہے اور جو نئے احمدی شامل ہوتے ہیں ان کے ایمان میں اضافے کا بھی سامان کر رہا ہے۔یاد گیر کرناٹک انڈیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال یہاں غیر از جماعت کی طرف سے سخت مخالفت شروع ہوئی اور مخالفین باہر سے اپنے علماء کو بلا کر جماعت کے خلاف تقاریر کراتے رہے۔ہندوستان پاکستان میں تو جماعت کی مخالفت انتہا پہ پہنچی ہوئی ہے۔کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہایت گندے اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔جماعت کے خلاف عوام کو بھڑ کا یا گیا جس پر بعض بد عقل لوگوں نے احباب جماعت کے ساتھ نہایت بد تمیزی کا سلوک کیا۔جماعت کے خلاف پمفلٹ شائع کئے۔انہی ایام میں ایک احمدی شخص جو جماعت سے بالکل کٹا ہوا تھا اور کسی طرح بھی جماعت سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا بد قسمتی سے علیحدہ ہو گیا۔اس کو ان مخالفین