خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 459
خطبات مسرور جلد 14 459 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 آتی ہیں وہ میں نے پڑھنی شروع کیں اور ان دعاؤں کی برکت سے خدا تعالیٰ نے کچھ ہی عرصہ میں مجھے اولاد سے نواز دیا حالانکہ اس سے قبل ڈاکٹر ز کہہ چکے تھے کہ میرے ہاں کوئی اولاد نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اس سال 2016ء میں مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان دیکھ کر میں نے بیعت کر لی۔بچوں کے پروگراموں کا اور بچوں کی نیک تربیت کا بھی لوگوں پر بڑا اثر ہوتا ہے۔بین کے مبلغ لکھتے ہیں کہ آتیسے ( Atesse) میں مسجد کے افتتاح کے موقع پر بچوں نے تلاوت قرآن کریم اور عربی قصیدہ پیش کیا۔اس موقع پر ہمسایہ گاؤں کے غیر احمدی امام اسحاق صاحب کہنے لگے کہ بچوں نے جو تلاوت قرآن اور عربی قصیدہ پیش کیا ہے اس سے میرے دل پر گہرا اثر ہوا ہے۔اگر وہ بچپن سے اتنی اچھی چیزیں نہ سیکھ رہے ہوتے تو کبھی بھی اتنے اچھے طریقے سے پیش نہ کر سکتے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ جماعت احمد یہ بچوں کی اچھی تربیت کر رہی ہے۔وہاں اپنی تقریر میں کہا کہ میں والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو ضرور مسجد بھیجا کریں۔اگر ایک طرف اسلام سکھانے والے بچوں سے خود کش حملے کروا رہے ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی تربیت کے زیر اثر غیر بھی اس طرف توجہ دلوا رہے ہیں کہ اپنے بچوں کی تربیت کے لئے جماعت کی مسجدوں میں بھیجو۔پھر بچوں کی تربیت کر کے انہیں اسلامی تعلیمات سکھانا اور معاشرے کا کارآمد وجود بنانا، یہ ہمارا کام ہے اس لئے تربیت کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں بھی لوگوں پر جماعت کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی مثال دی۔اب سیر الیون ایک اور ملک ہے۔وہاں بو (Bo) ریجن کی جماعت "سان " میں ہمارے ایک معلم بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی جماعت میں احمد کی اور غیر احمدی بچوں کی کلاس لینا شروع کی جس میں وہ ان کو بنیادی مذہبی تعلیم سکھاتے تھے۔ان کی کلاس میں غیر احمدی بچہ بھی حصہ لینے لگا۔اس کا نام احمد کونٹے تھا۔کافی کچھ سیکھ گیا۔ایک دن اس بچے کا والد عبدل جو کہ ایک غیر احمدی تھا وضو کر رہا تھا اس پر بچہ جس کی عمر گیارہ بارہ سال ہو گی اس کے پاس گیا اور اپنے والد کو بتایا کہ آپ درست طریقے سے وضو نہیں کر رہے۔اس کے بعد بچہ لوٹے میں پانی بھر کر لایا اور اپنے والد کو وضو کرنے کا درست طریق سمجھایا اور ساتھ ہی اس کو وضو کرنے کی دعا اور مسجد جانے کی دعا بھی سکھائی۔اس کا والد یہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور پوچھا کہ یہ سب تم نے کہاں سے سیکھا ہے اس نے بتایا کہ احمد یہ مسجد میں ہونے والی کلاس میں یہ سب کچھ سکھایا جاتا ہے۔جس پر اس کے والد نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور ہمارے معلم صاحب کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ آج کے بعد میرا بیٹا آپ کے حوالے ہے۔آپ جو چاہیں اس سے کام لیں اور اس کی اچھی تربیت جاری رکھیں۔تو یہ لوگ جو ابھی احمدی نہیں ہوئے ان پر بھی بچوں کی