خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 458
خطبات مسرور جلد 14 458 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 ایم ٹی اے دیکھنا شروع کر دیا۔اس طرح ان کا دل احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گیا۔اس کے بعد موصوف نے خود کوشش کر کے بیلجیم جماعت کا ایڈریس تلاش کیا اور مشن ہاؤس پہنچے اور کہنے لگے کہ میں بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں۔مربی صاحب نے انہیں کہا کہ پہلے جماعت کے بارے میں کچھ پڑھ تو لیں، مزید معلومات بھی حاصل کر لیں پھر فیصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ مجھے میرے تمام سوالات کے جوابات مل چکے ہیں اور جب انہیں مزید تعارف کروایا گیا، اختلافی مسائل کے حوالہ سے بھی باتیں کی گئیں تو خود ہی دلائل دے کر جواب دیتے تھے۔کہنے لگے میر اول پہلے ہی مطمئن تھا۔چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔اب دیکھیں جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر افریقہ کے دور در از ممالک میں اللہ تعالیٰ دل کھول رہا ہے تو یورپ میں بھی کھول رہا ہے۔پھر افریقہ کا ایک ملک مالی ہے۔وہاں کے مبلغ کہتے ہیں کہ ایک بزرگ مشن ہاؤس آئے اور کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔جب ان سے بیعت کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ میں کل رات آپ لوگوں کاریڈیو پر لائیو پروگرام سن رہا تھا جس میں بعض لوگ لائیو کالز (live calls) کر کے جماعت احمدیہ کو برابھلا کہہ رہے تھے۔میں نے پروگرام کے دوران ہی خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں میں سے جو بھی حق پر ہے اس کی طرف میری رہنمائی فرما اور کہتے ہیں دعا کرتے کرتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں اور دوسری طرف جماعت احمدیہ کے مخالفین ہیں اور ان کے در میان مناظرہ ہو رہا ہے۔مگر جب مخالفین احمدیت مبلغ کو جواب نہیں دے پاتے تو مبلغ کو ایک گڑھے میں پھینک دیتے ہیں اور مٹی ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔اسی دوران آسمان سے ایک بزرگ ظاہر ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ میں مہدی ہوں اور ہاتھ بڑھا کر احمدی مبلغ کی جان بچاتے ہیں۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔اب احمدیت کی سچائی سے متعلق میرے دل میں کوئی وسوسہ نہیں ہے اس لئے میں بیعت کرنے کے لئے آگیا ہوں۔پھر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کس طرح راستے کھولتا ہے۔فرانس کے ایک دوست مر تضیٰ صاحب پہلے مسلمان تھے ، احمدی نہیں تھے۔اس علاقے میں رہتے تھے جہاں کوئی احمدی بھی نہیں تھا۔انہوں نے اس سال بیعت کی۔کہتے ہیں میں نے بچپن میں آٹھ یا نو سال کی عمر میں ایک کتاب پڑھی جس کا نام مسیح الدجال تھا۔اس کتاب میں تین گروہوں کا ذکر تھا۔ایک فلاح پانے والے۔دوسرے بزدل۔اور تیسرے شہداء۔اس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے فلاح پانے والے گروہ میں شامل کرنا۔کچھ عرصے بعد ہم ہجرت کر کے فرانس آگئے۔یہاں ایک دن مجھے ٹی وی پر ایم ٹی اے کا چینل نظر آیا اور اس طرح میں جماعت سے متعارف ہوا اور باقاعدہ ایم ٹی اے دیکھنے لگا یہاں تک کہ جماعت کی صداقت کا میں دل سے قائل ہو گیا مگر بیعت نہ کی۔کسی بیماری کی وجہ سے عرصے سے میرے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ایم ٹی اے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو دعائیں