خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 456
خطبات مسرور جلد 14 456 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 ہے۔اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر آس پاس کے گاؤں کے تمام امام اور بعض اہم شخصیات بھی آئی تھیں اور ریجن کے بادشاہ بھی شامل تھے۔ایک مخالف امام نے تین مرتبہ پوچھا جو مخالفت کیا کرتے تھے کہ جو میں نے یہاں دیکھا ہے کیا یہی احمدیت ہے؟ کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جماعت احمدیہ کے بارے میں جو کچھ سن رکھا تھا وہ سب جھوٹ تھا۔لیکن آج میں کہہ سکتا ہوں کہ احمدیت سے بڑھ کر اور کوئی اسلام ہو ہی نہیں سکتا۔پس جو حقیقی مسلمان ہے، جس کو اسلام کا درد ہے اور جو اسلام کو دنیا میں پھیلتا دیکھنا چاہتا ہے وہ جماعت احمدیہ سے باہر ہو کر کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا اور یقینا آج سوائے جماعت احمدیہ کے ، سوائے اس پیغام کے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے اسلام کا پھیل رہا ہے اور جس نے پھیلنا تھا، اور کہیں یہ صحیح اسلام نظر آہی نہیں سکتا۔بین کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بوہیکوں (Bohicon) ریجن کی ایک جماعت میں ہماری مسجد تعمیر ہوئی۔اس گاؤں میں مارچ 2015ء میں احمدیت کا پو دالگا تھا اور 245 افراد احمدیت کی آغوش میں آئے۔جب سے اس جماعت نے احمدیت قبول کی ہے ان کو مسلسل مخالفت کا سامنا ہے۔رشتہ داروں کی طرف سے بھی مخالفت ہوئی۔گاؤں کے امام کی طرف سے بھی شدید مخالفت ہوئی۔گاؤں کے امام نے مختلف اماموں کو گاؤں میں بلا کر جماعت کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جماعت کے افراد اپنے عہد بیعت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔دوران سال جب یہاں مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو غیر از جماعت مولوی کھل کر مخالفت کرنے لگے۔لوگوں کو کہنے لگے کہ احمدیوں کی مسجد سے بہتر ہے کہ تم لوگ کسی چرچ میں جا کر نماز پڑھ لو۔جو مستری مسجد تعمیر کر رہا تھا اس کے گھر جا کر اس کو بھی دھمکیاں دیں کہ وہ مسجد تعمیر نہ کرے۔لیکن ان تمام دھمکیوں اور حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو یہاں مسجد بنانے کی توفیق ملی اور اس مسجد کے تیرہ میٹر بلند دو مینارے بھی ہیں اور بڑی خوبصورت مسجد ہے اور 375 افراد اس میں نماز بھی ادا کر سکتے ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوابوں کے ذریعہ کس طرح رہنمائی فرماتا ہے۔سان پید رو ( San Pedro) آئیوری کوسٹ کی ایک ریجن ہے۔اس کے ایک شہر میں رؤیا کے ذریعہ سے ایک دوست زولنم احمد صاحب نے بیعت کی۔موصوف کا تعلق عیسائیت سے تھا لیکن بعد میں اسلام قبول کر کے وہابی فرقے میں شامل ہو گئے۔وہ بتاتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نماز سیکھی اور باقاعدہ مسجد میں جا کر نمازوں کی ادائیگی شروع کر دی۔اسی دوران میں نے خواب میں دو مر تبہ ایک بزرگ کو دیکھا۔پہلی مرتبہ خواب میں ہی مجھے علم ہوا کہ یہ شخص خدا کا نبی ہے۔میں سمجھا کہ شاید یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے۔کچھ عرصہ بعد ایک مرتبہ پھر میں نے خواب میں دیکھا کہ انہی بزرگ کی تصویر ٹی وی پر آرہی ہے اور کوئی ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تلاوت