خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 455
خطبات مسرور جلد 14 455 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 کیونکہ وہاں کچھ مسلمان ہیں اور ان کی ایک مسجد بھی ہے لیکن جو اسلام آپ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ ان کے اسلام سے بالکل مختلف ہے۔چنانچہ جب ہمارے معلمین نے وہاں جا کر اسلام احمدیت کی تبلیغ کی تو پہلے ہی دن امام مسجد سمیت کل 93 افراد نے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔جب اس علاقے کے سنی مولوی کو پتا چلا کہ یہ لوگ احمدی ہو گئے ہیں تو اس گاؤں پہنچا اور کہنے لگا تم لوگ گمراہ ہو گئے ہو اور بھٹک گئے ہو۔یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔اس پر نو مبالعین نے جواب دیا کہ ہم نے سوچ سمجھ کر احمدیت قبول کی ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے اس لئے ہم تمہاری کوئی بات نہیں سنیں گے۔جب لوگوں نے مولوی کی بات نہیں سنی تو ان کا جو بڑا مولوی تھا وہاں کے مقامی امام کو کہنے لگا کہ تم مجھے دفتر آکر ملو۔اس پر وہاں کے مقامی امام نے انکار کر دیا کہ میں نہیں آؤں گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سب نو مبائع جماعت کے ساتھ تعلق میں مضبوط ہو رہے ہیں اور چندہ کے نظام میں بھی شامل ہیں۔وہ غریب لوگ ہیں۔بعض دفعہ سفر کے لئے کرایہ بھی جمع نہیں کر سکتے لیکن سب نے مرکز میں شوریٰ کا نمائندہ بھیجنے کے لئے چندہ اکٹھا کر کے اپنا نمائندہ بھجوایا۔اور انہی نو مبائعین کی وجہ سے قریب کے دو اور نئے گاؤں میں بھی جماعت کا پودا لگ چکا ہے اور نظام جماعت قائم ہو چکا ہے۔اسی طرح شیانگا تنزانیہ میں شیانگاریجن کے ایک اور گاؤں میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔پچھلے کئی سالوں سے مسلمان وہاں تھے۔ایک کچی مسجد بھی تھی۔جب ہمارے معلمین سلسلہ اس علاقے میں پہنچے اور تبلیغی پروگرام منعقد ہوئے تو گاؤں کے 130 افراد امام مسجد کے ہمراہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔احمدی ہونے کے بعد ان لوگوں کے بڑے بزرگ عیدی صاحب اپریل میں ہماری شوری پر دارالسلام بھی آئے اور جماعت کا مضبوط نظام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔کہنے لگے کہ میں 1993 ء سے مسلمان تھا لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔برکینا فاسو ایک اور افریقہ کا ملک ہے جہاں فرنچ بولی جاتی ہے۔وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ دوران سال جماعت کو تینکوڈ گوریجن میں ایک بہت خوبصورت مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔اس گاؤں میں جب احمدیت کا نفوذ ہوا تو اس وقت گاؤں کے لوگوں نے امام سمیت بیعت کی تھی۔مخالف مولوی اس گاؤں میں گئے اور انہوں نے کہا کہ آپ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم آپ کو اپنی بہت خوبصورت مسجد دے دیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی امام نے جماعت احمدیہ کا دامن تھامے رکھا اور جو کویت کے پیسے یا عرب ملکوں کے پیسے سے بنائی جانے والی مسجد تھی اس پر جماعت کی اس کچی مسجد کو ترجیح دی۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو وہاں ایک پختہ مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے جو مین ہائی وے کے اوپر بنی ہوئی ہے۔اس کی وجہ سے ہماری مسجد کی خبر پورے شہر اور تمام ملحقہ علاقوں میں پہنچ چکی