خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد 14 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 تو ان کے پاس پہنچے۔وہاں رابطہ ہوا۔مربی صاحب نے یا انسپکٹر صاحب نے ان کو چندے کی اہمیت بتائی۔خیر انہوں نے کسی نہ کسی طرح اپنا چندہ ادا کر دیا اور جماعت سے رابطہ بھی رکھا۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت عطا فرمائی کہ آمدنی پیدا ہونی شروع ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے سارے قرضے بھی اتار دیئے اور نہ صرف ان کے قرضے اتر گئے جس کی وجہ سے چھپتے پھرتے تھے بلکہ کہتے ہیں میں نے اپنا مکان بھی خرید لیا۔اب انہوں نے اپنا وعدہ اس سے کئی گنا بڑھ کے لکھوا دیا۔بنگال اور ستم کے انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ دارجلنگ جماعت کے ایک دوست دس سال قبل جماعت میں شامل ہوئے تھے۔مالی قربانی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔اس سال جب وقف جدید کے بجٹ کے لئے ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ والد کا آپریشن تھا جس میں ایک لاکھ روپے خرچ ہو گئے ہیں اس لئے کافی تنگی ہے۔موصوف نے اپنا وقف جدید کا بائیس ہزار روپے کا وعدہ جو اُن کا کافی بڑا وعدہ تھا، کم کر کے سترہ ہزار روپے کروادیا لیکن جب وصولی کرنے کے لئے گئے تو بائیس ہزار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے خیال آیا کہ میں ایک نیکی کو جب جاری کر چکا ہوں تو کیوں اس میں کمی کروں۔تو اس طرح بھی اللہ تعالیٰ ایمانوں میں اضافہ کرتا ہے اور خود احساس پیدا کرواتا ہے کہ تم لوگ قربانیاں کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مزید وارث بنو۔ماریشس سے ایک احمدی دوست بیان کرتے ہیں کہ 2015ء میں جب میری طرف سے خطبہ جمعہ میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان ہوا تو کہتا ہے میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے تو کبھی یہ چندہ ادا نہیں کیا۔خطبہ کے دوران ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ اگر مجھے کام مل گیا تو پچیس ہزار ماریشین روپے جو تقریباً پانچ سو پاؤنڈ بنتے ہیں وقف جدید میں ادا کروں گا۔کہتے ہیں چند دن بعد ہی مجھے پانچ لاکھ روپے کا ایک contract مل گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے وعدے کے بدلے میں ہیں گنا زائد عطا فرمایا ہے اور اس کے ملتے ہی انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنا چندہ ادا کیا۔بین افریقہ کا ایک ملک ہے۔وہاں کے ایک مخلص احمدی آوموسوں قدوس صاحب ہیں۔نوجوان بچہ ہے۔سولہ سترہ سال عمر ہے لیکن چندہ دینے میں مزدوری کر کے چندہ دیتے تھے لیکن ان کے بھائی بیمار تھے اور بڑے بڑے ہسپتالوں میں علاج کرانے کے باوجود فرق نہیں پڑ رہا تھا۔بہر حال بڑی فکر مندی تھی۔انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے خط لکھا۔خود بھی دعا کرتے رہے اور اس کے بعد ایک ہزار فرانک چندے کے طور پر بھی پیش کیا۔کہتے ہیں کہ کیونکہ خاص طور پر اس نظر سے کیا تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ غیر معمولی طور پر ان کے بھائی کو شفا ہو گئی بلکہ یہ بیان کرنے والے وہاں کے مبلغ ہیں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے انہیں کہا بھی کہ تمہارا بھائی بیمار ہے تمہیں ضرورت ہے ابھی تم یہ چندہ نہ دو، بعد میں دے دینا۔اس نے کہا نہیں۔اس نے نقد سودا کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی فوری طور پہ نوازا۔