خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 23

خطبات مسرور جلد 14 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 سیرالیون کی ایک احمدی خاتون پرائمری سکول کی ہیڈ مسٹرس ہیں۔کہتی ہیں کہ مشنری صاحب نے چندے کی تحریک کی۔میرے پاس رقم نہیں تھی۔پہلے میں دے چکی تھی۔کہتی ہیں میرا ایک بھائی تھا جو بڑے عرصہ سے عیسائی ہو گیا تھا اور مجھ سے ناراض تھا کہ تم بھی عیسائی ہو جاؤ اور چھوڑ کے امریکہ چلا گیا تھا۔خیر کہتی ہیں میں نے مشکل سے چندہ تو ادا کر دیا گو حالات ایسے نہیں تھے۔ایک دن اس کا فون آیا اور اس نے کہا کہ ٹھیک ہے تم بیشک مسلمان رہو۔احمدی رہو۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن بہر حال مجھے تحریک ہوئی ہے کہ میں تمہاری مدد کروں۔اس لئے میں تمہیں ایک بڑی رقم بھیج رہا ہوں۔چنانچہ اس نے رقم بھیجی۔بھائی سے رابطہ بھی ہو گیا اور کشائش بھی پیدا ہو گئی۔زیور خریدنے کی بجائے چندہ دے دینا ہندوستان سے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ کو ئمبتور (Coimbator) کے ایک دوست اپنی بیٹی کے لئے زیور خرید نے بازار گئے۔زیور پسند کر رہے تھے کہ جمعہ کا وقت ہو گیا۔انہوں نے دکاندار سے کہا کہ ہم نماز پڑھ کے آتے ہیں۔پھر زیور لیں گے۔خطبہ جمعہ میں ان کو میرے خطبہ کا خلاصہ سنایا گیا جس میں تحریک جدید کے چندے کے نئے سال کا اعلان تھا۔چندے کے بارے میں بتایا گیا اور اس میں ایک نابینا خاتون کی مالی قربانی کا واقعہ بھی میں نے سنایا تھا۔اس کا ان دوست پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے نماز کے بعد بجائے زیور خریدنے کے وقف جدید کا چندہ ادا کر دیا اور مسجد سے باہر آکر جب اپنی اہلیہ سے اس بات کا ذکر کیا تو وہ بھی بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں کہ خطبہ کے دوران میں نے بھی یہی ارادہ کیا تھا کہ یہ چندہ دے دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری بیٹی کے زیور کا کوئی اور انتظام کر دے گا۔ہندوستان میں سہارنپور سے ہی انسپکٹر وقف جدید لکھتے ہیں کہ یوپی کے ایک گاؤں میں ایک احمدی دوست کے گھر وقف جدید کی وصولی کے لئے گئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ عید آنے والی ہے اور میرے پاس صرف دو سو روپے ہیں۔چاہو تو عید کے کپڑے بنالو چاہو تو چندہ ادا کر دو۔اس وقت موصوفہ نے کہا کہ پہلے چندہ ادا کریں کپڑے تو بعد میں بن جائیں گے۔ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ یہ ان کے گھر دوبارہ چندہ لینے گئے تو ان کا گھر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔موصوف نے بتایا کہ ہم نے جب سے چندہ ادا کیا ہے تب سے ہمارے پاس بہت کام آیا ہے۔پہلے تو میں کھیتوں میں دوسروں کا ٹریکٹر چلاتا تھا اب اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا ہے کہ میں نے خود اپناٹر یکٹر خرید لیا ہے اور کام میں بے انتہا برکت پڑ گئی ہے۔ہندوستان سے ہی اڑیسہ کی ایک جماعت جگت گیری ہے (میرا خیال ہے یہ اڑیسہ میں ہی ہے)۔بہر حال جو بھی جگہ ہے وہاں کے ایک شخص قرضے میں ڈوبے ہوئے تھے اور اس کی وجہ سے لوگوں سے چھپتے پھر رہے تھے۔چھپ چھپا کر اپنا وطن چھوڑ کے حیدرآباد چلے گئے۔خیر ان کو ( انسپکٹر وقف جدید کو ) جب ان کے بارے میں علم ہوا