خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 454
خطبات مسرور جلد 14 454 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 مسلمان نہیں ہیں۔یہ بات ہماری سمجھ سے بالا ہے۔جو لوگ ہمیں نماز اور قرآن سکھارہے ہیں ان لوگوں کو کیسے کافر کہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ لوگ سب ثابت قدم ہیں اور اب یہاں اس علاقے میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو پخته مسجد بنانے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔پھر بین کے ایک اور معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ریڈیو تبلیغی پروگرام کے دوران ایک دن ایک دوست غاں ہو توں ایرک (Gan Hounouto Eric) صاحب کی فون کال آئی۔موصوف نے ہمیں اپنے گاؤں میں تبلیغ کے لئے آنے کی دعوت دی۔کہتے ہیں وہ ابھی اپنا پتہ بتارہے تھے کہ فون کال کٹ گئی اور بات پوری نہیں ہو سکی۔لکھتے ہیں کہ ایک دن ہم تبلیغ کی غرض سے ایک گاؤں سنوے پوتا (Sinwe Kpota) پہنچے تو ایک آدمی ہمیں دیکھ کر کھڑا ہوا اور سب لوگوں سے کہا کہ جلدی ادھر آؤ۔جن کو ہم روز ریڈیو پر سنتے تھے وہ آج خود ہمارے گاؤں آگئے ہیں۔چنانچہ وہاں تبلیغ کے نتیجہ میں 200 سے زائد افراد نے بیعت کی اور ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔اب چند دن ہوئے ہیں بیعت کئے لیکن ایمان کی مضبوطی کا حال بھی سن لیں۔کہتے ہیں کہ بیعت کرنے کے دو دن بعد تیز بارش اور آندھی کے باعث ایرک صاحب جو احمدی تھے ان کے گھر کی دیوار گر گئی۔جس کے نیچے آکر ان کا آٹھ ماہ کا بچہ فوت ہو گیا۔مشرکوں کا گاؤں تھا بعض مشرکین نے کہا کہ دیکھو تم اس جماعت پر ابھی ایمان لائے اور ابھی سے مشکلات آنی شروع ہو گئی ہیں۔جس پر اس نے کہا کہ میں نے جو سچائی دیکھی اس پر ایمان لے آیا۔باقی اولاد اور مال و دولت خدا ہی دیتا ہے اور وہی واپس بھی لے لیتا ہے۔میں اس جماعت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا چاہے کچھ بھی ہو۔میں نے احمدیت قبول کی ہے۔میں احمدی ہوں اور انشاء اللہ مرتے دم تک احمدی ہی رہوں گا۔تو یہ ہے ایمان کی مضبوطی اور توحید پر قائم ہونا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں پیدا فرما رہا ہے۔انہوں نے اپنی ذاتی زمین کا ایک حصہ نماز سینٹر بنانے کے لئے بھی دیا بلکہ اس میں خود ہی ایک معمولی سے چھپر وغیرہ کا فوری طور پر انتظام کر دیا تا کہ قرآن کریم کی کلاسیں شروع کی جاسکیں۔اللہ تعالیٰ کس طرح احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کے راستے کھولتا ہے اس بارے میں تنزانیہ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ شیانگاریجن کے ایک گاؤں بوتیبو ( Butibu) میں اس سال ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔اسی ریجن کے ایک اور گاؤں میں تبلیغی پروگرام منعقد ہو رہا تھا۔وہاں بوتیبو ( Butibu) گاؤں کی ایک عورت اتفاقاً پہنچی اور اس نے جب جماعت احمدیہ کا پیغام سنا تو کہنے لگی آپ لوگ ہمارے گاؤں میں بھی اسلام کا پیغام لے کر آئیں