خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد 14 453 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 ایک لوکل چیف جو اپنے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے بادشاہ کہلاتے ہیں کہنے لگے میں بھی ایک وقت میں بت پرست ہو تا تھا لیکن آج احمدیت کی بدولت توحید پرست ہو گیا ہوں اور اس نے لوگوں کو کہا کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ جماعت سچائی اور محبت کا مجسم نمونہ ہے اور جماعت احمدیہ کی بدولت ہی مجھے یہ ادراک ہوا ہے کہ گو میں ایک بادشاہ ہوں مگر میرے اوپر ایک عظیم شہنشاہ ہے جس کی عبادت ہم سب پہ فرض ہے۔اب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو یہ سوچ ذہنوں میں پیدا کرتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا پیغام بھی سچا ہے اور اسلام کی تعلیم بھی کچی ہے اور یہی حقیقی تعلیم اور پیغام ہے جو جماعت احمد یہ دنیا میں پھیلا رہی ہے اور یہی وہ تعلیم ہے جس سے جو مشرک لوگ ہیں وہ موحد بن رہے ہیں۔اس علاقہ کے ایک اور عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ جب اس علاقہ میں اسلام کی تبلیغ ہوئی اور لوگوں کی توجہ اسلام اور احمد یہ جماعت کی طرف ہوئی تو میرے پاس بہت سے لوگ جو اسلام کے نام سے خائف تھے اور جماعت کے حق میں نہیں تھے آئے اور اس خوف کا اظہار کیا کہ یہ لوگ دوسری دہشتگرد تنظیموں کی طرح ہمارے لوگوں کو قتل اور بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش سے آئے ہیں۔چنانچہ اس علاقے کے جو افسر تھے کہتے ہیں ہم نے اپنے نوجوانوں کی ڈیوٹی لگائی جو رات کے وقت مختلف اوقات میں جاکر علاقہ کے احمدی لوگوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے تھے کہ جماعت کسی قسم کی کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں۔لیکن بڑی تحقیق اور تجربے کے بعد اب ہم مطمئن ہیں کہ جماعت کا مقصد صرف امن کا قیام ہے۔احمدیت کے مخالف بڑی لالچوں کے ذریعہ لوگوں کو احمدیت سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بظاہر ان دور دراز علاقوں میں رہنے والوں اور کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لوگوں کے ایمانوں کو بھی مضبوطی عطا فرما رہا ہے۔ببین میں ایک جگہ بوز نپے (Bozinkpe) سے ہمارے مقامی معلم کہتے ہیں کہ چند افراد کو بیعت کی توفیق ملی اور نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔کہتے ہیں کہ بیعت کرنے سے قبل یہ لوگ مسلمان تھے اور ایک اور شہر کی ایک مسجد کے زیر اثر تھے۔قریبی بڑا شہر تھا۔بیعت کے بعد ان افراد سے مسلسل رابطہ رکھا گیا۔وہاں کلاسز شروع کی گئیں۔قرآن کریم، نماز اور دوسری اسلامی باتیں سکھائی گئیں۔کچھ عرصے بعد جب اس علاقے کے امام کو علم ہوا تو اس نے جماعت کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔کہنے لگا کہ احمدی تو مسلمان ہی نہیں ہیں۔یہ کا فر ہیں۔آپ لوگ ان کو چھوڑ دیں۔اس پر نو مبائعین نے جواب دیا کہ ہم لوگ بڑے عرصے سے اس علاقے میں موجود ہیں۔آپ لوگوں نے نہ تو کبھی یہاں آکر ہماری خیریت پوچھی نہ ہمارے بچوں کی دینی تعلیم کے بارے میں کبھی پوچھا۔اب احمدیوں نے آکر ہمیں اور ہمارے بچوں کو نماز اور قرآن پڑھانا شروع کیا ہے تو آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ