خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 452
خطبات مسرور جلد 14 452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 سوالات رہ گئے تھے وہ کہنے لگی کہ مجھے امید ہے آپ سے بات کر کے آج حل ہو جائیں گے۔چنانچہ کافی دیر ان دونوں کی مبلغ کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی اور آخر کار اس کا خاوند بھی اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور وہ دونوں بیعت کر کے حقیقی اسلام یعنی احمدیت میں داخل ہو گئے۔خاوند کے اسلام قبول کروانے کی سچی تڑپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو اس طرح کھینچا کہ اتفاق سے وہ وہاں آ بھی گئی اور پھر دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی اسلام کی آغوش میں آنے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر یہ صرف افریقہ کی ہی بات نہیں کہ لیف لیٹ کے ذریعہ سے یا تبلیغ کے ذریعہ سے پیغام پہنچ رہے ہیں یالوگوں میں تجسس صرف افریقہ میں اور تیسری دنیا کے لوگوں میں ہے۔بلکہ ہمارے یہاں ہڈرز فیلڈ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں بھی ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ بار نزلے (Barnsley) ٹاؤن میں تبلیغی لیف لیٹ تقسیم کئے گئے جس کی وجہ سے وہاں سے رابطہ قائم ہوا۔چنانچہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد وہاں سے پچاس سے زائد افراد مرد اور خواتین کوچ کروا کر ہڈرز فیلڈ میں ہماری مسجد میں آئے اور ان کا مقصد اسلام کے بارے میں معلومات لینا تھا۔اس وفد کے ساتھ مسجد میں اڑہائی گھنٹے کا پروگرام ہوا اور اسلام اور احمدیت کے بارے میں انہیں پریز مینٹیشن (presentation) دی گئی جس کے بعد سوال و جواب بھی ہوئے۔تو یہاں بھی یہ لوگوں کا خود آنا اور خود توجہ کرنا یہ بھی ایک کڑی ہے کہ اللہ تعالیٰ اب ہر جگہ دنیا میں لوگوں کے دلوں کی تاریں ہلا رہا ہے۔ایک طرف اسلام کی مخالفت ہو رہی ہے۔ایک طرف خود مسلمان اسلام کو بد نام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں غیر مسلم انتہا سے آگے جانا شروع ہو گئے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ خود ہی ایک ہوا چلا رہا ہے جس سے لوگوں میں حقیقی اسلام کو سمجھنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہو رہی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دور دراز کے رہنے والوں کے دلوں کو ایمانی لحاظ سے کس طرح اللہ تعالیٰ نے مضبوط کیا اور ان میں قربانی کا جذبہ بھی پیدا کیا۔بین کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ الاڈا ریجن کی ایک جماعت سوکو (Soko) میں اس سال فروری میں نئی مسجد تعمیر ہوئی۔مسجد کی تعمیر میں احباب جماعت نے بہت اخلاص اور محبت کے ساتھ حصہ لیا اور بہت سے مراحل میں غیر معمولی طور پر وقت اور مال کی قربانی کرتے ہوئے مزدوروں کی مدد بھی کرتے رہے۔خواتین بھی تعمیری کام کے لئے دور دور سے پانی لے کر آتی رہیں اور اس طرح مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتی رہیں۔وہاں گاؤں کے اپنے جو مقامی روایتی صدر ہیں انہوں نے کہا کہ یہ مسجد اہل علاقہ کے لئے پر امن اسلام کی قیامگاہ ہے۔اسی طرح وہاں کے جو چیف تھے انہوں نے کہا کہ مسجد الاڈا ریجن کی اس کو نسل کے لئے یقیناً روشنی کا مینار اور راستہ ہے۔اس علاقے کے لوگ زیادہ تربت پرستی کے مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔وہاں