خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد 14 451 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2016 پہنچانے اور لوگوں کے سینے اسے قبول کرنے کے لئے کھولنے کا کام خود اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ " میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا" (تذکرۃ ایڈیشن چہارم صفحہ 260) تو بہت سارا کام خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور یقیناً ہر صحیح العقل احمدی کو اس بات کا پورا ادراک ہے اور وہ جانتا ہے کہ احمدیت کی ترقی ہماری کوششوں اور وسائل سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہو رہی ہے۔اب مزید تمہید کے بجائے میں کچھ واقعات پیش کرتا ہوں۔ایک واقعہ یہ ہے۔گئی کنا کری کے مبلغ لکھتے ہیں کہ جماعتی تعارف پر مشتمل دو صفحوں کالیف لیٹ خدا تعالیٰ کے فضل سے ملک کے طول و عرض میں پھیل چکا ہے اور ہمیں ملک کے دور دراز علاقوں سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں سے امام مہدی اور مسیح کے بارے میں سنا کرتے تھے۔اب آپ کا یہ لیف لیٹ دیکھ کر ہمیں اشتیاق ہے کہ ہم آپ سے ملیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب امت مسلمہ کو ایک مصلح کی ضرورت ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگوں سے ہمارے رابطے ہوئے اور وہ لوگ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔اب لیف لیٹ تو صرف پتہ بتانے کے لئے ہے۔ایک ذریعہ بنا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے دلوں کو پہلے تیار کیا ہو اتھا اور جو عقل والے ہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ زمانہ ہے جس میں ایک مصلح کی ضرورت ہے، مسیح و مہدی کی ضرورت ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس دور دراز علاقے میں کسی کے زیر اثر احمدیت قبول کی گئی ہے یا احمدیت کی خبریں پہنچیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے کسی انسانی کوشش کا اس میں دخل نہیں۔پھر تنزانیہ ایک اور ملک ہے۔پہلے مغربی افریقہ تھا۔اب یہ مشرقی افریقہ کا واقعہ ہے۔ڈوڈوما ایک شہر ہے وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی ایک نمائش کے دوران ایک عورت ہمارے سٹال پر آئی اور بڑی حیرت سے پوچھنے لگی کیا یہ مسلمانوں کا سٹال ہے؟ پھر آہستہ آہستہ کتب سے تعارف حاصل کرتی رہیں۔آخر پر ایک کتاب خریدی جس میں عیسائیت کے حوالے سے مواد تھا۔چنانچہ ایک دن بعد وہی عورت اپنے خاوند کے ساتھ دوبارہ سال پر آئی اور اس دن وہ دونوں فوجی وردی میں ملبوس تھے۔دونوں فوجی تھے۔وہ عورت کہنے لگی کہ یہ میرا خاوند ہے اور ہماری شادی کو کافی عرصہ ہو چکا ہے۔میں مسلمان ہوں اور یہ عیسائی ہے۔اور عورت کہتی ہے کہ میری کافی دیر سے کوشش تھی کہ میں اسلام کی تعلیم بتاؤں اور مسلمان کروں لیکن کہیں سے اسلام کی تعلیم کے بارے میں مجھے کوئی ایسا اچھا مواد نہیں مل رہا تھا۔کل جب میں آپ کے سٹال پر آئی تو مجھے لگا کہ آج میں صحیح جگہ پر آئی ہوں۔چنانچہ میں نے آپ سے کل ایک کتاب خریدی اور اپنے خاوند کو دی جس سے ان کے کافی سوالات حل ہو گئے اور باقی جو کچھ