خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 448
خطبات مسرور جلد 14 448 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 فرانس میں جو خبر چھپی اس پہ ایک نے یہ لکھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ فرانس میں بھی اس قسم کا ایک جلسہ منعقد ہو تا کہ وہاں شدت پسند دوسروں پر اپنی رائے ٹھونسنا بند کر دیں۔لوگوں کے بعض تاثرات ایسے ہیں کہ بڑی دیر سے اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی لیکن یہ اب کام ہوا۔حالانکہ جماعت احمد یہ تو سو سال سے زائد عرصے سے یہ کام کر رہی ہے۔یہ پر لیس اور میڈیا ہمیں کوریج نہیں دیتا اس لئے کہ ان کی دلچسپی کے سامان اس میں نہیں ہوتے۔اب کیونکہ پریس نے کوریج دی تو لوگ سمجھ رہے ہیں شاید یہ پہلی دفعہ کام ہوا۔ایم ٹی اے افریقہ اور دیگر چینلز کے ذریعہ افریقہ میں کوریج ہوئی۔جلسہ سالانہ یو کے کی نشریات پہلی مرتبہ " ایم ٹی اے انٹر نیشنل افریقہ " کے ذریعہ سے دکھائی گئیں۔مشرقی اور مغربی افریقہ سے سینکڑوں کی تعداد میں احباب نے مبارکباد کے پیغام بھیجے۔ایم ٹی اے افریقہ کے علاوہ درج ذیل ٹی وی چینلز نے بھی جلسہ کی نشریات دکھائیں۔گھانا نیشنل ٹیلیویژن، سائن پلس ٹی وی گھانا، ٹی وی افریقہ ، سیر الیون نیشنل ٹی وی، ایم آئی ٹی وی نائیجیریا۔بین میں بھی ایک نجی چینل ای ٹیلی پر میر اخطاب پورا نشر کیا گیا۔کانگو برازاویل کے محدود علاقہ میں بھی جلسہ کے پروگرام ٹی وی اور ریڈیو پر نشر ہوئے۔یوگنڈا کی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے پہلے تو جلسہ سالانہ کی نشریات دکھانے سے معذرت کر لی تھی مگر عین آخری وقت انہوں نے جلسہ کی کوریج کی اجازت دے دی۔اس طرح یوگنڈا کے علاوہ روانڈا میں بھی جلسہ کی نشریات دیکھی گئیں۔میڈیا کوریج کی وجہ سے اور جلسہ کی وجہ سے بعض بیعتیں بھی ہوئیں۔کانگو برازاویل میں ایک عیسائی دوست مسٹر ویلی (Willy) کو مشن ہاؤس میں جلسہ سالانہ یو کے (UK) دکھانے کی دعوت دی گئی۔موصوف نے تینوں دن جلسہ سنا اور جلسہ کے بعد کہنے لگے مجھے پہلے مسلمانوں سے بہت ڈر لگتا تھا لیکن یہاں آکر میں نے دیکھا کہ ہر طرح پیار اور محبت کی باتیں ہو رہی تھیں۔خاص طور پر خلیفہ وقت کی تقاریر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اب مجھے جماعت کے حق میں کوئی اور دلیل نہیں چاہئے۔میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو تا ہوں۔پھر ایک مقامی جماعت کے صدر کی بیوی عیسائی تھیں۔ان کو بہت تبلیغ کی گئی لیکن وہ بیعت کرنے کی طرف نہیں آتی تھیں۔اس مرتبہ انہوں نے جلسہ کی کارروائی دیکھی اور جب میر اخطاب سنا تو اس کے بعد کہنے لگیں کہ اس تقریر نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں جماعت میں داخل ہو جاؤں کیونکہ یہاں سچائی ہی سچائی ہے اور زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھائے جاتے ہیں۔تو یہ چند نمونے میں نے دکھائے ہیں۔بے شمار نمونے میرے پاس آئے ہوئے تھے اور مزید آتے جائیں