خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 447

خطبات مسرور جلد 14 447 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 اگر یہ اصول یا فارمولا استعمال کیا جائے تو گزشتہ سال تو اس سے بہت کم تھا لیکن اگر ہم صرف میں فیصد کو ہی گئیں تو تب بھی گزشتہ سال سے چھ ملین سے زائد لوگوں تک یہ پیغام پہنچا ہے۔لیکن ویسے تو میر اخیال ہے سو ملین سے اوپر تک پہنچا ہے۔گزشتہ سال یہ اس لحاظ سے کیلکولیٹ (calculate) نہیں کیا گیا تھا۔اس کوریج پر ہمارا پر لیس اور میڈیا سیکشن خود بھی حیران ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے جو اس طرف توجہ ہوئی۔شعبہ تبلیغ یو کے کی میڈیا ٹیم کے مطابق ساؤتھ ویسٹ لنڈنر (Southwest Londoner) اخبار میں تین آرٹیکل شائع ہوئے اور اس اخبار کو آن لائن پڑھنے والے ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ ہیں۔سکاٹ لینڈ میں ہیرلڈ میگزین میں جلسہ کے حوالے سے مضمون شائع ہوا۔اس کے قارئین کی تعداد بھی پونے دولاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بیلجیم کے دو نیشنل اخبارات نے جلسہ کے حوالے سے مضامین شائع کئے۔گیانا سے بھی ایک صحافی خاتون کیمرہ مین کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئیں۔وہاں ٹی وی جی (TVG) پر جمعرات سے لے کر اتوار تک روزانہ شام کی خبروں میں جلسہ سالانہ کے حوالے سے خبریں دی گئیں۔اس کے علاوہ گیانا کے مشہور اخبار گیانا ٹائمز میں بھی آرٹیکل چھپے۔محتاط اندازے کے مطابق اس ٹیلی وژن چینل کو دیکھنے والوں کی تعد اد دولاکھ سے زائد ہے جبکہ اخبار گیانا ٹائمز کے قارئین کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ان اخبارات میں چھپنے والے آرٹیکلز کے حوالے سے مثبت اور منفی ہر دو طرح کے رد عمل دیکھنے کو ملے۔لوگوں نے آرٹیکلز کے نیچے اپنے تاثرات بھی لکھے ہیں۔بعض تاثرات یہ ہیں کہ جماعت احمدیہ کا فرقہ باقی تمام اسلامی فرقوں سے ممتاز ہے اور صحیح معنوں میں امن پسند لوگ ہیں جبکہ دوسرے مسلمان ان سے نفرت کرتے ہیں۔پھر ایک صاحب نے لکھا کہ جماعت احمد یہ ایک امن پسند جماعت ہے لیکن دنیا بھر میں سنتی مسلمان ان پر ظلم کرتے ہیں اور انہیں کا فر کہتے ہیں۔پھر یہ کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ مسلمہ کے لوگ ہندوؤں کے خدا کرشنا کو ایک پیغمبر سمجھتے ہیں۔یہ بہت امن پسند لوگ ہیں۔ان کے نظریات دیگر مسلمانوں سے مختلف ہیں اسی وجہ سے دنیا بھر میں ان پر مظالم کئے جارہے ہیں۔پھر بعضوں نے اخباروں کو یہ بھی لکھا کہ جماعت احمدیہ کے متعلق خبر پڑھ کر اچھا لگا۔ہم امید کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ ان لوگوں پر بھی اثر انداز ہو جو اسلام کو شدت پسند سمجھتے ہیں۔پھر ایک نے یہ لکھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان شدت پسندی کے خلاف کب آواز اٹھائیں گے۔پھر لکھنے والا لکھتا ہے کہ جیسا کہ آپ نے اخبار میں پڑھا کہ احمدی مسلمان بڑے وسیع پیمانے پر شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔احمدی تو ایک لمبے عرصے سے شدت پسندی کی سخت مذمت کر رہے ہیں لیکن لوگ ان کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے اور میڈیا کی دوسری خبروں کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو judge کرتے ہیں۔