خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد 14 446 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 متعارف کروایا تھا مگر میں جماعت کے حوالے سے ایک مخمصے کا شکار تھی۔کوئی کہتا تھا کہ جماعت احمد یہ دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہے۔کوئی کہتا تھا یہ لوگ تو مسلمان ہی نہیں ہیں۔چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں جلسہ میں شامل ہو کر سچائی معلوم کروں۔جلسہ میں شمولیت کے بعد مجھے پتا چلا کہ جماعت احمدیہ کے لوگ بہت اچھے، با تہذیب اور سب سے بڑھ کے سچے مسلمان ہیں۔اور پھر میرے خطابات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر رہا۔امن و سکون، سچائی اور حوصلہ اور بردباری کی تلقین تھی۔کہتی ہیں خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں وہ راہ دکھلائی جو اس کی ذات کی طرف لے جانے والی ہے۔پھر شکر یہ بھی ادا کرتی ہیں کہ بہت سارے والنٹیئر ز نے کارکنان نے دن رات تھکاوٹ کے باوجود ہمارے سکون کا خیال رکھا اور ہمیں بہت عزت دی۔جاپان کے پروفیسر صاحب جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ جلسہ میں اتنی ممالک کے تیس ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہیں۔پہلے دن مجھے لگا کہ جلسہ سالانہ اور یہاں لگے ہوئے پر چم بالکل اقوام متحدہ کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔لیکن خلیفہ وقت کا آخری خطاب جب میں نے سنا تو میری رائے بدل گئی کیونکہ اقوام متحدہ میں تو ہر ملک کا سفیر شریک ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے مفادات کی بات کرتا ہے خواہ وہ صحیح ہوں یا غلط۔لیکن خلیفہ وقت نے ساری دنیا کے لئے انصاف کی بات کی ہے اور یہ بات جلسہ سالانہ کو اقوام متحدہ سے امتیاز بخشنے والی ہے۔اس دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میڈیا میں بھی گزشتہ سالوں کی نسبت جلسہ کی بہت زیادہ کوریج ہوئی ہے۔مرکزی پریس اینڈ میڈ یا کاجو ہمارا آفس ہے اس کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ کوریج جلسے سے پہلے شروع ہو گئی تھی اور بی بی سی ریڈیو فور ، دی اکانومسٹ، دی گارڈین، دی انڈیپنڈنٹ، چینل فور ، ڈیلی ٹیلی گراف، ڈیلی ایکسپر میں، ڈیلی میل۔ڈیلی میل دنیا کی سب سے زیادہ آن لائن پڑھی جانے والی اخبار ہے۔دی سن، یہ یو کے (UK) میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اخبار ہے۔ریڈیو ایل بی سی لندن لائیو ٹی وی، سکائی نیوز چینل فائیو، سکاٹش ٹی وی، بلفاسٹ ٹیلی گراف، اور ناٹنگھم پوسٹ وغیرہ ان سب میں جلسہ کی کوریج ہوئی۔اس کے علاوہ بی بی سی کے مختلف ریجنل سٹیشنوں پر خبریں نشر ہوئیں۔اس طرح ان کا خیال یہ ہے کہ پرنٹ اور آن لائن میڈیا کے قارئین کی تعداد 41 ملین ہے اور ریڈیو کو سننے والوں کی تعداد 2۔48 ملین ہے۔تقریباً اڑہائی ملین۔ٹیلی ویژن پر دیکھنے والوں کی تعداد ایک ملین ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعہ اکانوے (91) ملین لوگوں تک خبر پہنچی۔اس طرح اگر سب کو ملایا جائے تو کل تعداد 135 ملین بنتی ہے۔لیکن انہوں نے محتاط رپورٹ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ہم یہ تصور کریں کہ سارے اخبار نہیں پڑھتے اور لوگ ہر خبر نہیں پڑھتے اور اگر اس ٹوٹل تعداد کا صرف ہیں فیصد دیکھیں تو تب بھی اٹھارہ ملین سے او پر افراد تک جلسہ کی خبر اور جماعت احمدیہ کا امن اور پیار و محبت کا پیغام پہنچا ہے۔