خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد 14 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 سے کسی شخص سے رقم مانگ رہے تھے جس نے ان سے ادھار لیا ہوا تھا، قرض لیا ہو اتھا اور واپس نہیں کر رہا تھا۔چندہ دینے کے فوراًبعد ہی اس کا پیغام آیا کہ تمہاری وہ رقم میرے پاس پڑی ہوئی ہے وہ لے جاؤ اور وہ اس رقم سے چار پانچ گنازیادہ تھی جو انہوں نے چندے میں دی۔پھر گیمبیا کی ایک خاتون ہیں انہوں نے دو سال پہلے بیعت کی تھی۔ان کی شادی کو دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔گزشتہ سال جب وقف جدید کے چندہ کی تحریک کی گئی تو انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق چندہ ادا کیا اور پھر مجھے بھی دعا کے لئے لکھا۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور موصوفہ کو اللہ تعالیٰ نے اب دو جڑواں بچوں سے نوازا ہے اور یہ کہتی ہیں کہ مجھے اب سمجھ آئی کہ چندے کی برکات کیا ہیں ؟ پھر گیمبیا سے ہی امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں کے ایک دوست ہیں۔ایک سال سے بیمار تھے اور بیماری کے دوران نہ چل سکتے تھے، نہ پھر سکتے تھے، نہ کوئی کام کر سکتے تھے۔اس وجہ سے مالی حالت بھی بہت زیادہ خراب تھی۔چنانچہ گزشتہ سال جب وقف جدید کی تحریک کی گئی تو ان کے پاس پانچ ڈالا سی تھے جو ان کو کسی نے صدقے کے طور پر دیئے تھے۔وہ پانچ ڈلاسی انہوں نے وقف جدید میں ادا کر دیئے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایسا فضل کیا کہ جو شخص چلنے پھرنے سے قاصر تھا اس کے کام میں ایسی برکت ڈالی کہ اب جانوروں کا ایک ریوڑ ان کے پاس ہے اور وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ سب فضل فرمایا کہ میری فصلیں بھی اچھی ہونے لگ گئیں اور میرے پاس جانوروں کا بڑار یوڈ آگیا یہ سب چندے کی برکات ہیں۔گیمبیا سے ہی امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون کا خاوند سات سال پہلے اچانک غائب ہو گیا۔خاتون بڑی پریشان رہتی تھی۔اس کو لوگ کہتے تھے کہ اتنا عرصہ ہو گیا وہ نہیں آیا۔فوت ہو چکا ہو گا۔تم شادی کر لو۔وہ کہتی تھی نہیں۔بہر حال چندے کے لئے جب ان کے پاس گئے۔وقف جدید کا چندہ انہوں نے دینا تھا۔پانچ ڈلاسی انہوں نے چندہ ادا کر دیا اور کہتی ہیں کہ اس چندے کی ادائیگی کے بعد مجھے ایک ذہنی سکون مل گیا۔اور پھر نہ صرف ذہنی سکون ملا۔دوماہ کے بعد ہی اچانک ایک دن ان کا خاوند صحیح سالم گھر پہنچ گیا جو کہیں کسی وجہ سے پھنس گئے تھے یا کسی ایسی جگہ چلے گئے تھے جہاں سے آنا مشکل تھا۔بہر حال ان کے وہ حالات ٹھیک ہو گئے۔خاوند بھی آگیا اور اب اللہ کے فضل سے ان کے بیٹی بھی پید اہوئی۔فن لینڈ سے ایک دوست لکھتے ہیں کہ 510 یورو میرا پچھلے سال کا وعدہ تھا۔اس سال میں نے کہا چلو حالات ٹھیک نہیں تو میں نے اپنا وعدہ ایک سو یورو کر دیا کہ زیادہ نہیں دے سکتا۔کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس طرح پکڑا کہ ایک دن اچانک میری گاڑی سڑک پر خراب ہو گئی اور اس کو مرمت کے لئے ورکشاپ لے جانا پڑا۔جو بل آیا وہ بعینہ اتنا تھا جتنا پہلے انہوں نے وعدہ کیا ہو تا تھا یعنی 510 یوروہ توگھر پہنچتے ہی انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اصل میں مجھے سبق دیا ہے۔پھر فوری طور پر انہوں نے اپنا وقف جدید کا وعدہ پورا کیا اور چندہ ادا کیا۔