خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 443 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 443

خطبات مسرور جلد 14 443 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 بھی روشن ہے۔اور انشاء اللہ ہے۔پھر یوگنڈا کے وائس پریذیڈنٹ ایڈورٹ سیکاندی ( Edward Sekandi ) تشریف لاۓ ہوۓ تھے۔کہتے ہیں کہ جب انہیں جلسہ گاہ کا ٹور (tour) کروایا گیا اور بتایا گیا کہ تمام کار کن رضاکار ہیں تو بہت حیران ہوئے۔پھر سیکیورٹی والوں کو دیکھ کر پوچھنے لگے کہ ٹھیک ہے باقی تو رضا کار ہیں لیکن ان کو یقیناً پیسے دیئے جاتے ہوں گے۔تو موصوف کو جب یہ بتایا گیا کہ یہاں کام کرنے والے تمام لوگ رضا کارانہ طور پر کام کر رہے ہیں تو بڑے متاثر ہوئے۔کہنے لگے میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا جہاں تمام لوگ امن کے ساتھ اکٹھے رہ رہے ہوں اور میں نے مسلمانوں کے بارے میں یہی سن رکھا تھا کہ لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں اور دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں۔یوگنڈا میں بھی مسلمان آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور حکومت کو بسا اوقات Intervene کرنا پڑتا ہے۔لیکن اب مجھے پتا چلا کہ اصل اور حقیقی مسلمان کون ہیں اور اسلام کی تعلیم امن و سلامتی کی تعلیم ہے۔رشیا سے ایک مہمان خاتون ڈاکٹر ارینا سر مینکو (Dr Irina Sirinko) آئی ہوئی تھیں۔موصوفہ روس میں انسٹی ٹیوٹ آف اور ممثل سٹڈیز میں پروفیسر ہیں۔کہتی ہیں کہ جماعت کے اس جلسہ میں شرکت میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا جو ایک ناقابل فراموش تجربہ ثابت ہوا۔اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ جلسہ کا انتظام اور منصوبہ بندی بہت اعلیٰ معیار کی تھی بلکہ بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ جلسہ کا ماحول بہت روحانی تھا۔جماعت احمد یہ ہر نئے آنے والے کو پیار محبت اور اعلیٰ درجہ کی مہمان نوازی کے ذریعہ اسلام کا حقیقی اور نیا چہرہ دکھاتی ہے۔آئس لینڈ سے ایک مہمان آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ اس جلسہ میں شامل ہونا میری زندگی کے نہایت خوبصورت ترین تجربات میں سے تھا۔چالیس ہزار افراد کو ایک جگہ اکٹھا دیکھ کر میرا ایمان دوبارہ زندہ ہو گیا۔دنیا کے ہر کنارے سے آئے ہوئے اتنے کثیر افراد کو انتہائی امن اور محبت سے مل جل کر رہتے دیکھ کر میرے دل پر بہت گہرا اثر ہوا۔میں آپ کی مہمان نوازی کا انتہائی شکر گزار ہوں اور میں کوشش کروں گا کہ اسلام کے حقیقی امن اور محبت کے پیغام کو پھیلاؤں۔تو یہ جو ہمارا ماحول ہوتا ہے اس کو بھی دیکھ کر لوگ بڑے متاثر ہوتے ہیں۔شاملین کی طرف سے بعض ایسے واقعات ہو جاتے ہیں جو بعض دفعہ برا اثر ڈال سکتے ہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اور پردہ پوشی ہے کہ ان لوگوں کے سامنے ایسے واقعات نہیں ہوتے۔اب اس سال بھی کچھ ایسے واقعات تھے جو نہیں ہونے چاہئیں تھے۔بعض لوگوں نے آپس میں لڑائیاں بھی کیں اور ایسے لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ یہ نہ صرف جماعت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ باہر سے آنے والوں کو ایک ایسا پیغام دے رہے ہیں جو اسلام