خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد 14 442 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 جہاں سب کچھ میسر تھا۔صاف ستھرے ٹائلٹس ، رہائش گاہیں، ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنز جو مختلف زبانوں میں پروگرام نشر کر رہے تھے۔مختلف ملکوں سے آئے ہوئے امیر ، غریب، بڑے بڑے عہد وں والے سیاستدان، صاحب علم، دانشور سب ایک ہو کر کام کر رہے تھے۔چالیس ہزار کے قریب مہمانوں کے کھانے پینے ، لانے لے جانے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن یہ کام چھ ہزار کے قریب رضا کار بغیر کسی شور ، ہنگامے اور فساد کے خوشی خوشی کر رہے تھے۔ان رضا کاروں میں تین سال سے لے کر اسی سال کی عمر کے افراد شامل تھے۔یعنی بچے بھی اور بوڑھے بھی۔یہ رضا کار دوسروں کی خدمت کر کے خوشی محسوس کر رہے تھے۔میں نے تو ہر طرف محبت اور اخوت ہی دیکھی۔کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ بہت موئثر رنگ میں کام کر رہی ہے اور یہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتی۔انشاء اللہ۔کہتے ہیں میں تو سب کو کہنا چاہتا ہوں کہ جماعت کو قریب سے دیکھو تو آپ کو خود بخود سمجھ آجائے گی۔کہتے ہیں کہ جب جلسہ میں آیا تو صرف پہلا آدھا گھنٹہ اجنبی محسوس کیا اس کے بعد لوگ خود بخود مجھ سے آکر ملتے رہے۔ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم سب ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں۔یہ بھی جلسہ کی ایک خوبصورتی ہے کہ صرف جلسہ کے کام کرنے والے ہی غیروں کو متاثر نہیں کرتے بلکہ شاملین جلسہ بھی متاثر کر رہے ہوتے ہیں اور اس ذریعہ سے ایک خاموش تبلیغ ہو رہی ہوتی ہے۔پس اس لحاظ سے بھی جہاں ڈیوٹی دینے والے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنیں کہ وہ اپنے عمل سے اسلام کا پیغام پہنچارہے ہیں اور غیر مسلموں کو متاثر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن رہے ہیں، اس لحاظ سے وہاں شامل ہونے والے احمدی بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ان سے خاموش تبلیغ کروارہا ہے۔نائیجر سے صدر مملکت کے مذہبی امور کے مشیر خاص بھی اس سال جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں تقریباً سارا سال سفر میں رہتا ہوں اور مذہبی میٹنگز میں شامل ہوتا ہوں۔لیکن میں نے آج تک کبھی ایسا روحانی منظر نہیں دیکھا۔جلسہ میں شمولیت سے مجھے لگ رہا تھا کہ آسمان سے نور نازل ہو رہا ہے۔بیعت کا نظارہ دیکھنے کے بعد کہتے ہیں گویا میں بیعت رضوان میں شامل ہوں۔جاپان سے ایک دوست آرویاما (Aoyama) یوسف صاحب شامل ہوئے جو کہ مشہور سکالر اور جاپان نگلیکن (Anglican) چرچ کے صدر ہیں۔کہتے ہیں کہ احمدی نوجوانوں اور بچوں کا جذبہ خدمت قابل تحسین ہے۔آج دنیا کی کسی بھی قوم میں ایسے نوجوان نہ ہونے کے برابر ہیں جو رضاکارانہ طور پر ایسی خدمات بجالا ر ہے ہوں۔یہ نظارہ صرف جلسہ سالانہ میں نظر آرہا ہے۔کہیں نوجوان بھاگ بھاگ کر کھانا کھلانے کے لئے فکر مند ہیں۔کہیں کوئی مہمان کو لانے لے جانے کے لئے گاڑیوں کی فکر میں ہے۔کہیں بچے پانی پلا رہے ہیں تو کہیں بڑی عمر کے افراد مختلف کاموں میں مصروف ہیں۔خصوصاً بچوں کی پُر جوش شمولیت بتاتی ہے کہ احمدیت کا حال بھی اور مستقبل