خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد 14 444 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 سے بھی دور کر رہا ہے اور پھر جماعت احمدیہ کو بھی ان لوگوں میں شمار کر دیتے ہیں جن کے بارے میں لوگ اچھے تاثر نہیں رکھتے۔ہر احمدی کو جلسہ کے دنوں میں تو خاص طور پر اور عموماً ویسے بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔یونان کے وفد سے ایک صاحب کہتے ہیں کہ جلسہ کے انتظامات بہت اعلیٰ تھے اور بہت منظم انداز میں رضاکاروں نے سارا کام کیا۔جب مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے لسٹ بنانی شروع کر دی کہ دیکھوں کتنے ملکوں سے یہاں لوگ آئے ہیں۔میں حیران ہوا کہ میری لسٹ کی تعداد تیں ممالک تک پہنچ گئی۔کہتے ہیں جلسہ کے تیسرے دن جب مار کی میں بیعت کی تقریب دیکھی تو یہ میرے لئے بہت روحانی تجربہ تھا۔میں نے بہت سارے لوگوں کے چہروں کو جذبات سے بھر پور پایا۔واقعی یہ ایک بہت خوبصورت نظارہ تھا۔پھر مقدونیہ سے بھی ایک صاحبہ آئی ہوئی تھیں۔مقدونیہ اور کروشیا کا بڑ اوفد تھا۔ایک صاحبہ کا تاثر بیان کر رہا ہوں۔کہتی ہیں جلسہ سالانہ کے انتظامات نے مجھے بہت حیران کیا۔ہر مہمان کے لئے ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔میں سب سے زیادہ چھوٹے چھوٹے بچوں سے متاثر ہوئی جو مہمانوں کی خدمت کر رہے تھے۔گوائٹے مالا کے ایک ممبر آف پارلیمنٹ خیوسیلیز صاحب کہتے ہیں کہ مہمانوں کی خدمت قابل رشک تھی۔اس طرح بچوں کی ڈیوٹیاں لگا کر عملی طور پر مستقبل کے لئے انہیں تیار کرنا تا کہ اپنی ذمہ داریاں اس رنگ میں نبھا سکیں قابل تقلید ہے۔پس جہاں عمومی طور پر جلسہ ہر احمدی شاملین کے لئے اعتقادی اور عملی بہتری کا ذریعہ بنتا ہے، جلسہ میں ہر ایک اپنی اپنی اصلاح کرتا ہے، اکثر کی عملی اصلاح کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے وہاں جلسہ غیروں کو بھی متاثر کرتا ہے اور صرف تربیت کی حد تک ہی نہیں ہے بلکہ اب تو اس کی وسعت اتنی ہو گئی ہے کہ جلسہ سالانہ احمدیت اور حقیقی اسلام کی تبلیغ کے نئے سے نئے راستے کھول رہا ہے۔اصل مقصد ، بہت بڑا مقصد تو جماعت کے افراد کی تربیت ہے لیکن غیروں کے یہاں آنے سے تبلیغ کے بڑے نئے رستے کھل رہے ہیں۔مہمان اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہم پر ظاہر نہیں تھی اور میڈیا اور بعض مسلم گروہ یا گروپ غلط رنگ میں اسلام کو پیش کرتے ہیں اور وہی ہمارے ذہنوں پر حاوی ہے۔یہ اکثر نے اظہار کیا۔مسلمان کا نام سنتے ہی دہشت گردی اور شدت پسندی اور ظلم کی تصویر ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہے۔لیکن آج اسلام کی تعلیم کے عملی نمونے دیکھ کر ہم اب اپنے دائرہ اثر میں، اپنے لوگوں میں، اپنے ماحول میں کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کی خوبصورتی کی تعلیم جماعت احمدیہ مسلمہ کے پاس دیکھو۔اس ضمن میں بعض اور تاثرات بھی بیان کرتا ہوں۔گوائٹے مالا کی ایک ممبر آف پارلیمنٹ آلیانہ