خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 441

خطبات مسرور جلد 14 441 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 جلسہ میں شامل ہو کر مجھے امید کا پیغام ملا ہے۔دنیا میں ہر طرف ذاتی مفادات کی خاطر فسادات کئے جارہے ہیں لیکن آپ کے جلسہ میں ان نوجوانوں اور بچوں کو دیکھ کر جو اپنی پر واہ اور فکر کئے بغیر دوسروں کی خدمت کے لئے حاضر اور تیار رہتے ہیں ان نوجوانوں اور بچوں کے ذریعہ ایک نئی دنیا جنم لے گی جس میں خود غرضی نہیں ہو گی بلکہ دوسروں کی خدمت اعلیٰ مقصود ہو گا اور اس اعلیٰ تعلیم کے ساتھ اسلام احمدیت دوسروں کے لئے آج ایک صیقل آئینہ کی طرح ہے جو اسلام کا حسین چہرہ دنیا کو دکھاتا ہے۔کہتے ہیں میں صحافی ہونے کی حیثیت سے دنیا کے اکثر حصوں میں گیا ہوں۔میں نے سعودی عرب میں حج کے انتظامات دیکھے۔ایران میں بھی بہت بڑے اجتماعات میں شرکت کی۔میں نے یو این او (UNO) کے تحت بھی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کی لیکن میں نے اس طرح کے اعلیٰ انتظامات کہیں اور نہیں دیکھے۔اس کی وجہ بے لوث اور محبت کرنے والے اور انسانیت کی قدر کرنے والے وہ نوجوان اور بچے اور بوڑھے ہیں جو اس جلسہ میں ہر وقت خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں اور جنہیں ان کے خلیفہ کی رہنمائی ہر وقت میسر رہتی ہے۔کہتے ہیں کہ میں اپنے دل کی کیفیت صحیح طور اپنے الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔کہتے ہیں یہ میرے لئے بڑا حیران کن تجربہ ہے کہ ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہنستے اور مسکراتے چہروں کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کرتے دیکھے۔میں یہ بات جاننے میں ناکام رہا کہ ان میں سے کون امیر ہے اور کون غریب۔ایک ہی طرح ایک ہی جذبہ سے وہ دوسروں کے آرام کے لئے دن اور رات محنت کرتے نظر آئے۔کہتے ہیں کہ ایم ٹی اے کے انتظامات نے بھی مجھے بڑا حیران کیا۔میں ببین میں نیشنل ٹی وی کا ڈائریکٹر رہا ہوں۔میں نے آج تک ٹی وی کے براہ راست پروگرام کے اتنے اعلیٰ انتظامات کہیں اور نہیں دیکھے۔یو این او (UNO) میں بھی اتنی زبانوں میں براہ راست تراجم نہیں ہوتے جتنے آپ کے ہاں ایم ٹی اے کے ذریعہ براہ راست تقاریر کے تراجم کا انتظام تھا۔اس جلسہ میں شامل ہر فرد اپنی زبان میں براہ راست تقاریر کا ترجمہ سن کر محسوس کرتا کہ جلسہ اس کے اپنے ملک میں ہو رہا ہے۔اس کی زبان اور قوم میں ہو رہا ہے۔میں نے احمدیت میں یہ بات سیکھی ہے کہ ایمان کو تمام باقی چیزوں سے افضل رکھو اور سچائی ہی کی جیت ہوتی ہے۔طاقتور ہمیشہ طاقتور نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ جلسہ میں شامل ہو کر میں تو کہوں گا کہ خدا سے ملانے والا راستہ آج بھی موجود ہے اگر کوئی اس پر عمل کرنا چاہے تو۔کونگو کنٹا سا کے ایک صوبہ کے اٹارنی جرنل بھی شامل تھے۔وہ کہتے ہیں میں پچیس سال سے بطور مجسٹریٹ کام کر رہا ہوں۔میں نے جلسہ کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ صرف دولت سے کچھ نہیں کیا جا سکتا جب تک اتفاق و اتحاد نہ ہو۔جب آپ ایک جسم کی طرح ہو جائیں تو پھر سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔جلسہ کے کارکن ایک جسم کی طرح ہو گئے تو انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔جنگل کو قابل رہائش بنا دیا