خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 440

خطبات مسرور جلد 14 440 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اگست 2016 پکانے، کھانا کھلانے اور پھر جلسہ گاہ کے مختلف کام، سیکیورٹی سے لے کر پار کنگ اور دوسری سہولیات مہیا کرنے اور پھر انہیں سمیٹنے تک انتہائی مہارت اور منصوبہ بندی سے کام کرتے رہے۔یہ نظارے ہمیں دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آئیں گے۔پس یہ کارکن ہمارے انتہائی شکریہ کے مستحق ہیں۔اور اس طرح ان کارکنان کو بھی، ان کام کرنے والوں کو بھی، ان رضا کاروں کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کا موقع عطا فرمایا اور یہ دعا کرنی چاہیئے کہ آئندہ اللہ تعالیٰ انہیں پہلے سے بڑھ کر اس خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔باہر سے آئے ہوئے مہمانوں نے اس بات پر بڑی حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح انہیں بچوں نوجوانوں بوڑھوں نے کام کرتے ہوئے متاثر کیا ہے۔بعض مہمانوں کے تاکثر بیان کر دیتا ہوں۔جلسہ کے پروگرام بھی اور کام کرنے والے بھی ایسی خاموش تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں جو اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جو ہم دوسرے لٹریچر تقسیم کر کے یا دوسرے ذرائع سے کرتے ہیں۔بین کے وزیر دفاع جلسہ میں شامل ہوئے۔موصوف کہتے ہیں مجھے اس جلسہ میں شامل ہو کر امن اور محبت کے سفیروں سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ہر بچہ ، جو ان دوسروں سے خوش اخلاقی سے ملتا ہوا نظر آیا۔اگر کسی کو دوسرے کی زبان سمجھ نہ بھی آتی تھی تو مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہتا اور مہمان کی زبان میں کچھ نہ کچھ کہنے کی کوشش کرتا۔جلسہ سالانہ حقیقی بھائی چارے کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔کہتے ہیں کہ میں اس جلسہ کو حقیقی سکون کی آماجگاہ کہوں گا۔اس جلسہ میں شامل ہر بچہ ، بڑا اور بوڑھا قربانی کر کے دوسروں کے آرام کا خیال رکھتا ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ آپ کا جلسہ میرے لئے ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔میں نے اتنے بڑے اجتماع میں کسی کو دھکم پیل کرتے نہیں دیکھا۔ہر چیز ایک نظام اور طریق کے ساتھ چل رہی تھی۔میرے لئے بڑا حیران کن تھا کہ ڈیوٹی پر موجود ہر چھوٹا بڑا مہمان کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہوا تھا۔اگر کسی چیز کا اشارہ بھی اظہار کیا جاتا اور وہ موجود نہ ہوتی تو اسے فور آخرید کر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی جاتی۔سب سے بڑی بات تمام شاملین جلسہ کی سیکیورٹی کا موثر اور اعلیٰ انتظام کا ہونا تھا۔سیکیورٹی کا ایک اعلیٰ اور عمدہ پلان تھا جس سے لگ رہا تھا کہ کسی پروفیشنل ٹیم نے اس کا انتظام کیا ہوا ہے حالانکہ وہاں مجھے نہ تو کوئی پولیس والا اور نہ ہی کوئی آرمی کے لوگ نظر آئے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ میں جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ انتظامات کے پیچھے کیا راز ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ لوگ ایک خلافت کے ماننے والے ہیں اور اس وجہ سے ایک ایسی قوم تیار ہو گئی ہے جو ہر قربانی کے لئے تیار رہتی ہے۔تو یہ تاثرات ہوتے ہیں غیروں کے۔پھر بین کے ہی ایک جر نلسٹ بھی آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ اس جلسہ کے اعلیٰ انتظامات کے بارے میں اگر کسی کو بتایا جائے تو وہ اس وقت تک یقین نہیں کرے گا جب تک خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے۔آپ کے