خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 436
خطبات مسرور جلد 14 436 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 پس اس ثواب کو بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے اور یہی ان تین دنوں کا صحیح استعمال بھی ہے۔بجائے اس کے کہ باہر کھڑے اِدھر اُدھر کی باتوں میں مصروف ہوں اور جب میں آجاؤں اور نماز شروع ہو جائے تو پھر اس کے بعد اندر آنا شروع ہوں تو جیسا کہ میں نے کہا اس وقت پھر لکڑی کے فرش کی وجہ سے جو نمازی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی نماز ڈسٹرب ہوتی ہے۔اسی طرح نمازوں کے اوقات میں اور جلسہ کے اوقات میں اپنے فون بند کر لیا کریں یا کم از کم گھنٹی کی آواز بند کر لیا کریں۔اگر کسی کو یہ خیال ہے کہ میرے ہنگامی فون ہیں یا ہنگامی فون آسکتے ہیں تو گھنٹی کی آواز تو کم از کم بند کر لیں۔اس سال کیونکہ انتظامیہ نے یہاں موبائل کے انتظام کو بہتر کیا ہے اور اس شعبہ کا دعوی ہے کہ یہاں بھی اس طرح فون کے سگنل آئیں گے جس طرح شہر میں آتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ بات سن کر بہت سے لوگوں نے ان کے ہم (SIM) ڈلوائے ہوں۔اس لئے یہ نہ ہو کہ جو سہولت یہاں خاص موقع کے لئے مہیا کی گئی ہے وہ ہر فون کی گھنٹی بجنے کی وجہ سے جلسہ کے دوران بھی اور نمازوں کے دوران بھی لوگوں کو ڈسٹرب کر رہی ہو، ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جائے۔اسی طرح شامل ہونے والوں کو جو اپنی کاروں پر آرہے ہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے مکمل تعاون کریں تا کہ انتظامیہ کو کسی قسم کی دقت نہ ہو۔اس دفعہ انتظامیہ نے کوشش کی ہے کہ پارکنگ کے لئے جو انتظام ہے اس کو بہتر سے بہتر کیا جائے لیکن انتظام اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے اور ہو تا ہے جب لوگوں کا تعاون ہو۔پس کسی بھی انتظام کی بہتری کے لئے جلسہ پر آنے والوں کا تعاون ضروری ہے۔سکیننگ کے شعبہ میں مکمل تعاون کریں۔یہ تمام انتظامات شامل ہونے والوں کی سہولت اور حفاظت کے لئے بھی کئے جاتے ہیں۔جماعت احمدیہ کی خوبصورتی یہی ہے کہ ہر احمد کی انتظام کا حصہ ہے ، چاہے وہ کارکن ہے یا غیر کار کن جو جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آتا ہے۔پس خاص طور پر پارکنگ، سکیننگ، کھانے کی جگہیں اور جلسہ گاہ میں ہر وقت ہر ایک کو ہوشیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ماحول پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔جہاں بھی کوئی غیر معمولی چیز دیکھیں یا کسی کی غیر معمولی حرکت دیکھیں فوری طور پر انتظامیہ کو بھی ہوشیار کریں اور خود بھی ہوشیار ہو جائیں۔لیکن ہر حالت میں panic بالکل نہیں ہو نا چاہئے۔جو لوگ اپنے پرائیویٹ خیموں میں ہیں یا اجتماعی رہائش کی مار کی میں ہیں وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ اپنی رقم اور قیمتی چیزیں اپنے ساتھ رکھیں۔خاص طور پر عورتیں یا درکھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی زیور وغیرہ ہے تو اسے پہن کر رکھیں۔اول تو جلسہ پر زیور وغیرہ قسم کی چیزیں لانی ہی نہیں چاہئیں۔دینی ماحول میں دن گزارنے کے لئے آتی ہیں، کوئی دنیاوی فنکشن کے لئے تو نہیں آتیں۔اس لئے ایک تو آنے والی جو زیور لے کے آگئیں ان کو