خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد 14 435 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 بھی ہوئی۔بچوں کو تو بعضوں نے اپنے ساتھ لائے ہوئے کمبلوں میں لپیٹ کر سلا دیا۔لوگ جوش اور جذبے کے تحت اپنے چھوٹے بچوں کو بھی لے آتے ہیں۔نو دس ماہ کے بچے یا سال دو سال کے بچے ہیں وہ بھی ساتھ آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے یہیں ٹینٹوں میں یا مار کی میں رہائش رکھی ہے اور اگر انہیں کہا جائے کہ یہاں صحیح انتظام نہیں ہے، ٹھنڈ بہت زیادہ ہے اور کہیں اور چلے جائیں تو یہی کہتے ہیں کہ نہیں، ہم برداشت کر لیں گے۔اور ہمارے بچے بھی برداشت کر لیں گے۔ہم نے یہیں راتیں گزارنی ہیں تاکہ جلسہ کے ماحول سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے۔تو اگر ایسے لوگ ہیں جو آرام اور سہولت کے لئے کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی اکثریت ایسی بھی ہے جو کہتی ہے کہ ہم جلسہ سننے آئے ہیں۔کوئی بات نہیں اگر تھوڑی بہت تکلیف بھی برداشت کرنی پڑی تو کر لیں گے۔بڑے سخت جان ہیں اور بچوں کو بھی سخت جان بنانا چاہتے ہیں۔بہر حال ایسے مہمان ہیں جو رحمتیں لے کر آنے والے ہیں اور ایسے مہمانوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میز بانوں کے کام بھی آسان کر دیتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ بعضوں کو رات کو تکلیف ہوئی۔مجھے امید ہے کہ گزشتہ رات جو تکلیف ہوئی اور میٹر سوں اور بستروں کی کمی ہوئی یا مہمانوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچی، آج رات انتظامیہ اس کو ڈور کرلے گی اور مہمانوں کو کل جو تکلیف پہنچی تھی امید ہے انشاء اللہ آج نہیں ہو گی۔جلسے میں شامل ہونے والے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں وقت پر آکر بیٹھ جایا کریں تاکہ بعد میں آنے کی وجہ سے شور نہ ہو۔اگر کھانے کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے تو کھانا کھلانے کی انتظامیہ ، جلسہ گاہ کی انتظامیہ یا جس کے سپر د نماز کے اوقات کا انتظام ہے انہیں اطلاع کر دیں کہ ابھی مہمان کھانا کھارہے ہیں، نماز میں دس پندرہ منٹ انتظار کر لیا جائے اور وہ مجھے اطلاع کر دیں تو اس کا انتظار کر لیا جائے گا۔مجھے بھی باوجود کوشش کے مصروفیت کی وجہ سے چند منٹ دیر ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ زیادہ دیر بھی ہو جاتی ہے۔خاص طور پر جب باہر کے مہمان، غیر از جماعت مہمان آئے ہوں، ان کی ملاقاتیں ہو رہی ہوں تو دیر ہو جاتی ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ میرے آنے کے بعد اور نماز شروع ہونے کے بعد بھی کافی تعداد میں لوگ اندر آتے ہیں اس لئے اس طرف مہمانوں کو بھی اور تربیت کے شعبہ کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے بعد میں آنے اور لکڑی کے فرشوں پر چلنے کی وجہ سے شور ہوتا ہے۔باوجود اس کے کہ جس حد تک اس شور کو دور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، کی جارہی ہے لیکن پھر بھی آوازیں آتی ہیں۔اگر پہلے بھی آگئے ہیں تو دعائیں اور ذکر الہی کرتے رہیں۔اس کا بھی ثواب ہے۔اللہ تعالیٰ تو ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا ثواب دیتا ہے۔مسجد میں انتظار میں بیٹھے رہنے کا بھی ایک ثواب ہے۔(صحيح البخارى كتاب الاذان باب فضل صلاة الفجر في جماعة حديث 651)