خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد 14 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 شرکت بھی کی۔1132 اماموں نے ٹریننگ لی۔نو مبائعین کی تعلیم و تربیت کے لئے اور ان کو نظام جماعت کا فعال حصہ بنانے کے لئے مختلف ممالک میں ان کی تعلیمی و تربیتی کلاسز اور ریفریشر کورسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جیسا کہ میں نے بتایا اور بہت سارے جو شریف الطبع مساجد کے امام بھی بیعت کرتے ہیں اور احمدیت میں شامل ہوتے ہیں تو ان کی بھی نئے سرے سے تربیت کرنی پڑتی ہے۔انہیں تربیت دینی پڑتی ہے۔صحیح اسلام کے بارے میں مسائل سکھانے پڑتے ہیں۔ان کی کلاسیں لگائی جاتی ہیں۔تو اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا اماموں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ان کی جو کلاسز ہیں وہ ہفتے سے لے کے دو ہفتے تک سال کے مختلف اوقات میں، سال کے مختلف حصوں میں لگتی ہیں۔ان پر رہائش اور خوراک وغیرہ کے اخراجات آتے ہیں۔یہاں جو رپورٹیں میرے سامنے آئی تھیں اس میں میں دیکھ رہا تھا کہ برکینا فاسو اور نائیجر کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کام بہت بہتر ہو سکتا ہے جو یہ نہیں کر رہے۔چندوں میں شمولیت بہت ضروری ہے بہر حال اب شامل ہونے والوں کے کچھ کو ائف پیش کرتا ہوں۔پہلے تو میں نے بتایا تھا کہ یہ اتنا اضافہ ہوا۔اب ہے وقف جدید میں شامل ہونے والے مخلصین کی تعداد۔2010ء میں یہ تعداد چھ لاکھ تھی۔اُس وقت میں نے خاص طور پر مختلف جماعتوں کو تحریک کی تھی کہ تربیت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک چندے کے نظام میں شامل نہیں کریں گے۔اب اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان شامل ہونے والوں کی تعداد بارہ لاکھ سے اوپر جاچکی ہے لیکن ابھی بھی بہت زیادہ گنجائش ہے اور جیسا کہ میں نے کہا چندوں میں شمولیت کی طرف توجہ دلانا بہت ضروری ہے۔اس کے بغیر اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ ایمان میں بھی ترقی نہیں ہو سکتی اور پھر چندوں کا نظام ہی ایسا نظام ہے جس کی وجہ سے پھر رابطے بھی رہتے ہیں اور خود چندہ دینے والوں کو چندے کی برکات کا پتا چلتا ہے اور پھر ان میں شوق پیدا ہوتا ہے۔چند ایک واقعات بھی اس کے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔تنزانیہ کے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں کی رہنے والی ایک نو مبائع خاتون نے صرف ایک ماہ پہلے بیعت کی تھی۔ان کو جب وقف جدید کی برکات کے بارے میں بتایا گیا تو کہنے لگیں کہ اس وقت میرے پاس رقم تو نہیں ہے لیکن چونکہ چندہ کی ادائیگی کا سال ختم ہو رہا ہے۔میں چندے کی برکت سے محروم نہیں ہونا چاہتی تھوڑا سا انتظار کریں۔چنانچہ وہ اپنے گھر گئیں۔گھر میں انڈے پڑے ہوئے تھے۔وہاں سے انڈے لئے۔وہ جا کے بازار میں بیچے اور دو ہزار شلنگ ان کی قیمت وصول ہوئی۔وہ آکے چندہ وقف جدید میں دے گئیں۔اب یہ صرف ایک مہینہ پہلے احمدی ہوئیں اور ان کو یہ احساس ہوا کہ چندہ دینا ضروری ہے۔اسی طرح ایک نو مبائع ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔جو رقم تھی وہ میں نے چندے میں دے دی۔کسی نے ان کی رقم دینی تھی۔کہتے ہیں وہ رقم میں نے چندے میں دے دی اور بڑے عرصے