خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 434
خطبات مسرور جلد 14 434 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 یا تکلف کے کھانے ملیں گے تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے آتا ہے۔حالانکہ خود میز بان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کرے اور اس کو آرام پہنچاوے اور وہ پہنچاتا ہے۔لیکن مہمان کا خود ایسا خیال کرنا اس کے لئے نقصان کا موجب ہے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 372) پس مہمان ان دنوں میں جیسی بھی سہولت ہو اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ان کارکنوں کا شکر ادا کریں جو رات دن ایک کر کے ہر شعبہ میں مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جلسے کے تین دن مہمانوں کو اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے کس طرح سامان کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے یہ دن گزاریں۔اس کی خیر مانگتے ہوئے گزاریں اور ہر شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دن گزاریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی جگہ رہائش اختیار کرتے ہوئے یا عارضی پڑاؤ ڈالتے وقت یہ دعامانگے کہ " میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اور ہر شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں " تو فرمایا کہ " ایسے شخص کو اس رہائش کو چھوڑنے یا وہاں سے چلے جانے تک "اگر عارضی رہائش بھی ہے تو چلے جانے تک "کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔" (مسلم کتاب الذكر والدعاء۔۔۔باب التعوذ من سوء القضاء۔۔۔حديث 2708) پس ان دنوں میں خاص طور پر یہ دعامانگیں کہ دنیا کے جو حالات ہیں اور کوئی پتا نہیں کس وقت کوئی شریر کیا شرارت کرنے والا ہے، کس قسم کے نقصان پہنچانے کی بعض ظالم منصوبہ بندی کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ ہمیں پناہ دے۔پھر بیماری وغیرہ کی تکلیفیں ہیں۔بچوں کے ساتھ لوگ آئے ہوئے ہیں اور بڑے جذبے سے اکثریت لوگوں کی آتی ہے تو یہ دن بچوں کے لئے بھی موسم کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تکلیف کا باعث ہو جاتے ہیں اور آنے والے لوگ جو بچوں والے ہیں، وہ پر واہ بھی نہیں کرتے۔بچے نازک ہوتے ہیں۔کوئی بھی تکلیف ان کو پہنچ سکتی ہے۔اس لئے یہ ساری دعائیں جب کی جائیں تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کی تکلیفوں اور شرارتوں سے بچاتا ہے۔پس ہر قسم کی تکلیف سے بچنے کے لئے ہمیں دعائیں مانگتے رہنا چاہئے۔اور یہ بھی ہر ایک جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دعاؤں کی قبولیت کے لئے عبادت کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔پس ان دنوں میں اس لحاظ سے بھی اپنی زندگیوں کو ڈھالیں اور صرف ان دنوں میں نہیں بلکہ پھر یہ جو عادت پڑے یہ ہر ایک کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائے۔میں نے بچوں کے ساتھ آنے والوں کی بات کی۔مجھے پتا چلا ہے کہ رات کو بعض لوگ آئے اور انتظامیہ کے پاس بستروں یا میٹر سوں(mattresses) کی کمی ہو گئی تھی اور بعض چھوٹے بچوں والوں کو اس وجہ سے تکلیف