خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 433

خطبات مسرور جلد 14 433 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 دفعہ کارکنوں کے ساتھ غلط رویہ دکھا جاتے ہیں انہیں اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنا چاہئے اور کارکنوں کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہئے۔بیشک کارکنوں کو یہی تلقین کی جاتی ہے کہ انہوں نے ہر صورت میں صبر اور حوصلے سے کام لینا ہے لیکن بشری تقاضے کے تحت بعض حالات میں بعض کار کن سخت جواب بھی دے دیتے ہیں۔پس مہمانوں کا بھی کام ہے کہ کارکنوں کی عزت اور احترام کریں اور کوئی ایسا رویہ نہ دکھائیں جس سے بد مزگی پید اہونے کا امکان ہو اور پھر جو بچے اور نوجوان ایک جذبے کے تحت کام کرنے آتے ہیں اور بعض دفعہ مہمانوں کے غلط رویے کی وجہ سے ان میں بد دلی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔غیر از جماعت مہمان اگر کسی تکلیف کی وجہ سے کوئی اظہار کریں جو عموماً وہ نہیں کرتے تو ان کا اظہار تو بہر حال قابل قبول ہے اور ہمیں یہ پوری کوشش بھی کرنی چاہئے کہ ان کی اگر کوئی تکلیف ہے تو ان کو آرام اور سہولت مہیا کی جائے۔لیکن احمدی جو جلسہ میں شامل ہونے آتے ہیں بیشک وہ ایک لحاظ سے مہمان ہیں لیکن ان کا مقصد مہمان بن کر رہنا نہیں ہونا چاہئے۔وہ تو اس لئے آتے ہیں کہ جلسہ کی برکات سے حصہ لیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اس سوچ کے ساتھ آنا بھی چاہئے۔اس لئے ان کی رہائش یا کھانے وغیرہ کے وقت اور اکثریت تو یہاں رہائش بھی نہیں رکھتی، ان کے آنے جانے میں، پارکنگ میں اگر بعض وجوہات کی وجہ سے دقت بھی ہو تو کھلے دل سے اور حوصلے سے یہ تکلیف برداشت کرنی چاہئے۔پچھلے جمعہ میں بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ چند دنوں کے لئے ایک پورا شہر بسایا جاتا ہے اور پھر چند دنوں میں ختم بھی کرنا ہے اور کار کن یہ سارے کام کر رہے ہوتے ہیں تو بہر حال جہاں یہ عارضی سہولتیں مہیا کی جارہی ہو تو وہاں کچھ نہ کچھ تکلیفیں تو ہوتی ہیں۔جتنا چاہے بہترین انتظام کرنے کی کوشش کریں پھر بھی بعض انتظامات نہیں ہو سکتے جو مستقل جگہوں پر ہو سکتے ہیں۔مجھے بتایا گیا کہ پچھلے سال شامل ہونے والی ایک خاتون نے کہا کہ مارکیوں میں ایئر کنڈیشنگ کا انتظام ہونا چاہئے۔موسم گرم ہوتا ہے۔ہمیں علم ہے اور انتظامیہ کو بھی علم ہے لیکن ایئر کنڈیشننگ کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے۔اگر ایسی صورت ہو تو دروازے کھول دینے چاہئیں تاکہ ہوا آتی رہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک معمولی چیز ہے یا اگر پنکھوں کا بھی انتظام ہے تو یہ معمولی چیز ہے۔بعض تکنیکی روکیں اور مسائل بھی سامنے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے انتظام نہیں ہو سکتے۔پنکھوں کا انتظام بھی بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اخراجات کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ربوہ میں جو جلسے ہوتے تھے یا قادیان میں ابھی بھی ہوتے ہیں تو سر دیوں میں کھلے میں بیٹھ کر اور بعض دفعہ بارش میں بھی لوگ جلسہ سنتے ہیں اور سردی بھی برداشت کرتے ہیں۔پس اگر شامل ہونے والوں کو ایسی چھوٹی موٹی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، گرمی برداشت کرنی پڑے تو برداشت کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر ایسے ہی لوگوں کے بارے میں جو مختلف چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں فرمایا کہ: " دیکھو اگر کوئی مہمان یہاں محض اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا ٹھنڈے شربت ملیں گے