خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 432
خطبات مسرور جلد 14 432 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا۔اس احسان کا حق ہم اسی صورت میں ادا کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا اس بات پر ہی ہم حقیقی رنگ میں شکر ادا کر سکتے ہیں جب ہم خالصةً لِلہ ہر کام کرنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر کام کرنے والے ہوں۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو اس لئے کہ چند ایک کی کمزوری کی حالت اکثریت کی سوچ نہ بن جائے۔چند ایک کو دیکھ کر نئی آنے والی نسلیں یہ نہ سمجھ لیں کہ جلسوں میں بیٹھ کر باتیں کرنا اور توجہ نہ دینا جائز ہے۔اور اگر میں اس حوالے سے بات کرتا ہوں تو اس لئے کہ یاد دہانی ہوتی رہے اور اگر کوئی کمزوری ہے تو ساتھ کے ساتھ دُور ہوتی چلی جائے تا کہ جیسا کہ میں نے کہا ہمارے نئے آنے والے اور ہمارے بچے اور ہمارے نوجوان اس بات کو سامنے رکھیں کہ جلسے کی کیا اہمیت ہے۔اگر جلسہ ہماری علمی اور روحانی ترقی پر مثبت طور پر اثر انداز نہیں ہور ہا اور بشری کمزوری کے تقاضے کے تحت ہم میں سے کچھ بعض تقریروں اور مقررین سے صحیح استفادہ نہیں کرتے تو یہ قابل فکر بات ہے۔اللہ تعالیٰ مقررین کی زبان میں بھی برکت ڈالے کہ وہ اپنے ذمہ لگائے گئے مضمون کو سننے والوں کے ذہنوں میں اس طرح ڈال سکیں کہ وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ اور رسول کی باتیں ہیں، جو عشق و وفا کی باتیں ہیں، جو تعلق باللہ کی باتیں ہیں، جو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ہیں، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق مسیح موعود اور مہدی معہود سے تعلق اور اطاعت کی باتیں ہیں، لوگوں کے ذہنوں میں داخل ہو جائیں اور مثبت اثر ڈالنے والی ہوں۔پس ہر وہ شخص جو جلسے میں آیا ہے اس بات کو یقینی بنائے کہ اس نے ان تین دنوں میں دنیا کے معاملات کو بھول جانا ہے اور بھول کر اپنے دینی اور روحانی معیاروں کو بڑھانا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔مہمانوں کو ، جلسے میں شامل ہونے والوں کو اس طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ مہمانوں کی خدمات کے لئے مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی جو کارکنان مقرر کئے گئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے بطور کار کن جنہوں نے جلسے کے دنوں میں اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ان میں کالجوں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء بھی ہیں اور ایسی تعداد بھی ہے، بہت بڑی تعداد ایسوں کی بھی ہے جو اپنے کاروبار کرتے ہیں یا نوکریاں کرتے ہیں۔بعض بڑے معزز عہدوں پر بھی ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کا جو جذبہ ہے اس نے ایک سکول کے طالبعلم کو، ایک مزدور کو ، ایک کاروبار کرنے والے اور ایک معزز اور دنیاوی لحاظ سے اچھی پوزیشن پر کام کرنے والے کو ایک ہی سطح پر کھڑا کر دیا۔اس لئے وہ مہمان جو بعض