خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 431

خطبات مسرور جلد 14 431 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 دفعہ ان کو کارکنوں کو، ڈیوٹی والوں کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ان کو چاہئے کہ وہ جلسہ کی کارروائی کو نہایت سنجیدگی سے سنیں اور اس نیت سے سنیں کہ اس سے ہم نے صرف ذہنی حظ نہیں اٹھانا یا کسی علمی نکتے کو سن کر وقتی علمی حظ نہیں اٹھانا بلکہ اس لئے سنا ہے کہ ہمیں مستقلاً علمی اور روحانی فائدہ ہو۔پھر بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے پسندیدہ مقرر چنے ہوتے ہیں اور صرف انہی کی تقاریر کے لئے جلسہ گاہ میں آتے ہیں۔ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "میں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کرتا ہوں کہ ظاہری قیل و قال جو لیکچروں میں ہوتی ہے اس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آکر اس پر ہی نہ ٹھیر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کر رہا ہے۔الفاظ میں کیسا زور ہے۔" فرمایا: "میں اس بات پر راضی نہیں ہو تا۔میں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کا ہی یہی اقتضا ہے کہ جو کام ہو اللہ " تعالیٰ " کے لئے ہو۔جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔" مسلمانوں میں ادبار اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے ورنہ اس قدر کا نفر نسیں اور انجمنیں اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لٹان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اور تقریریں کرتے، شاعر قوم کی حالت پر نوحہ خوانیاں کرتے ہیں۔وہ بات کیا ہے کہ اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔قوم دن بدن ترقی کی بجائے تنزل ہی کی طرف جاتی ہے۔" فرمایا: " بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آنے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 401،399،398) پس آپ نے ان لوگوں کا یہ نقشہ کھینچا ہے جو دنیا دار ہیں۔جن کے لیکچر ، جن کی تقریر میں چاہے وہ دین کے نام پر ہوں دنیا کی نام و نمود کی خاطر ہوتی ہیں۔بلکہ آپ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ یہ تقریریں کرنے والے اکثر بجائے یہ شوق رکھنے کے کہ ہماری تقریر لوگوں کے دلوں پر اثر کر کے ان کی علمی و روحانی بہتری کا باعث بنے، اپنی تقریر کے دوران صرف اس سوچ میں ہوتے ہیں کہ ان کی واہ واہ ہو۔گویا کہ تقریر کے دوران ایسے مقررین نے اپنے معبود اُن سامعین کو بنایا ہوتا ہے جو اُن کی باتیں سن رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح آپ نے فرما یا شامل ہونے والے بھی اخلاص لے کر جلسوں میں شامل نہیں ہوتے، باتیں نہیں سنتے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 401) اگر اخلاص کے ساتھ آئیں تو بالکل ایک اور اثر ہو رہا ہو ، مثبت اثر ہو رہا ہو۔لیکن بہر حال ہمارے جلسوں کے نہ تو مقررین کا یہ مقصد ہے اور نہ عموماً سامعین کا یہ مقصد ہے اور نہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ بجائے ان باتوں کو سمجھ کر اپنی اصلاح اور بہتری کا ذریعہ بنائیں، عارضی طور پر حظ اٹھایا جائے۔اگر ہمارے اندر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں تو انہیں