خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 430

خطبات مسرور جلد 14 430 خطبه جمعه فرموده مورخه 12 اگست 2016 سے یہ شکایت آتی ہے کہ بجائے خاموشی سے جلسہ گاہ میں بیٹھ کر جلسہ کی کارروائی سنیں بعض لوگ جلسہ کی مار کی کے باہر ٹولیوں میں بیٹھ کر خوش گپیوں میں وقت گزار رہے ہوتے ہیں اور بچوں کو کھیل کو دکا سامان دے کر جلسہ کی مار کی کے ساتھ ہی انہیں کھیلنے کا موقع دیا جارہا ہوتا ہے۔اس سے تو بچوں کو بھی احساس نہیں ہو گا کہ دینی مجلس کا تقدس کیا ہے ؟ اگر بچے اتنے چھوٹے ہیں کہ کھیل کود کی عمر ہے اور ان کو بہلانے کے لئے ضروری ہے کچھ دیا جائے تو پھر بچوں کی مار کی میں بچوں کو لے جائیں وہاں بچے کھیلتے رہیں وہاں سامان مہیا ہے۔لیکن جو مین مارکیاں ہیں عورتوں کی بھی اور مردوں کی بھی اس کے ساتھ بچوں کا کھیل کود میں مصروف ہونا اور ماں باپ کا ان کے قریب ہی بیٹھ کر ٹولیاں بنا کر باتیں کرنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔اور جب کارکنان اس بات سے منع کرتے ہیں تو بعض برا بھی مناتے ہیں کہ کیوں ہمیں روکا گیا۔حالانکہ یہ غلطی مہمانوں کی ہوتی ہے کام کرنے والوں کی نہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک کمیٹی تقاریر کے عناوین کے لئے غور کرتی ہے اور پھر مختلف عناوین تجویز کر کے مجھے بھیجتی ہے جن میں سے میں حالات کے مطابق سات آٹھ عناوین تجویز کرتا ہوں اور تجویز کے بعد یہ منتخب کئے گئے عناوین مقررین کو بھجوائے جاتے ہیں۔وہ کئی کئی دن بلکہ بعض تو مہینے سے زیادہ وقت اپنی تقریر کی تیاری میں لگاتے ہیں اور مختصر وقت میں بڑی محنت سے ان عنوانوں پر جامع مضمون پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ہر ایک کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ مقررین اور علماء اتنا وقت لگا کر محنت کر کے جو مواد تیار کرتے ہیں اسے غور سے سنیں اور پھر یاد بھی رکھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر سننے والے مرد بھی اور عور تیں بھی ان تقاریر کا پچاس فیصد بھی یادرکھیں تو اپنے علمی، دینی اور روحانی معیار کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ سب کو متوجہ ہو کر تقریروں کو سنا چاہئے۔فرمایا کہ پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے۔اس میں غفلت، سستی اور عدم توجہ بہت بُرے نتیجے پیدا کرتی ہے۔جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے تو غور سے اس کو نہیں سنتے ہیں ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور موئثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔" فرمایا ایسے ہی لوگوں کے متعلق کہا جاتا ہے " کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں اور دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔پس یاد رکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اسے توجہ اور بڑی غور سے سنو کیونکہ جو توجہ سے نہیں سنتا ہے وہ خواہ عرصہ دراز تک فائدہ رساں وجود کی صحبت میں رہے اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 143-142) پس ایک حصہ خاص طور پر جب بعض دفعہ عمومی شکایتیں آتی ہیں تو وہ جو مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی مار کی کے آخری حصہ میں بیٹھے ہوتے ہیں انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ اگر وہ شکایتیں صحیح ہیں تو اس