خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد 14 426 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 کوئی شہر نہیں تھا جہاں جا کے وہ آرام کر سکے تو وہ بیچارہ ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے لئے لیٹ گیا۔اس درخت کے اوپر پرندوں کا ایک گھونسلا تھا جو نر اور مادہ تھے۔ان پرندوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص جو آج ہمارے درخت کے نیچے لیٹا ہے یہ آج ہمارا مہمان ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔اب مہمان نوازی کس طرح کی، انہوں نے فیصلہ کیا، پہلی بات تو یہ سوچی کہ رات ٹھنڈی ہے ، ہمارے مہمان کو سردی لگے گی تو اسے آگ سینکنے کے لئے کوئی چیز مہیا کی جائے۔پھر یہ سوچا کہ ہمارے پاس اور تو کچھ ہے نہیں۔اپنا گھونسلا توڑ کر نیچے پھینک دیتے ہیں جس کے گھاس پھوس اور لکڑیوں سے مہمان جو ہے آگ جلا کر کچھ آگ سینک لے گا۔چنانچہ انہوں نے اپنا گھونسلا پھینکا اور اس شخص نے اسے جلایا اور آگ سینکنے لگا۔پھر پرندوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اور تو ہمارے پاس مہمان کو کھلانے کے لئے کچھ ہے نہیں، ہم خود ہی آگ میں گر جاتے ہیں اور جب آگ میں بھن جائیں گے تو یہ مہمان ہمیں کھالے گا۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مہمان کی خوراک کا انتظام کر دیا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 130-131) تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کہانی سنانے کا مقصد تھا کہ مہمان کے آنے پریشان ہونے کی بجائے جس حد تک انسان کے بس میں ہو قربانی دے کر بھی اس کی مہمان نوازی کرنی چاہئے۔پس یہ ہم سب کے لئے سبق ہے۔خاص طور پر وہ جو اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کرتے ہیں کہ اپنے ذمہ ڈیوٹیوں کے حق ادا کرنے کی پوری کوشش کریں۔ڈیوٹیوں میں بہت ساری ڈیوٹیاں ہیں۔مختلف شعبے ہیں۔مثلاً کار پارکنگ کا بھی ایک شعبہ ہے۔یہ بھی بہت اہم شعبہ ہے۔بعض دفعہ مہمان یہاں غلط رویے بھی دکھا جاتے ہیں اور کار کن کی ہدایت کے مطابق پارکنگ نہ کرنے پر اصرار کرتے ہیں، اپنی مرضی سے پارکنگ کرنا چاہتے ہیں۔ایسی صورت میں کارکن کو حتی الوسع یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اسے نرمی سے سمجھائے اور پھر اپنے بالا افسر کو اطلاع کرے۔گزشتہ سال بھی ایسی شکایتیں آئی تھیں کہ کار پر آنے والی بعض خواتین یا چند عورتوں نے کہا کہ ہم کار آگے لے کر جائیں گے۔وہاں ڈیوٹی والے سے تلخ کلامی ہو گئی۔بیشک اپنے فرائض کو ادا کرنا ہر کارکن کا فرض ہے اور آجکل کے حالات میں تو بہت زیادہ احتیاط بھی کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر پارکنگ میں بھی۔لیکن اس کے ساتھ ہی جیسا کہ میں نے کہا اخلاق کا مظاہرہ بھی ہونا چاہئے۔اگر تو کوئی صحیح مطالبہ ہے، کسی کا کوئی بیمار ہے یا کوئی اور وجہ ہے تو اسے آرام سے سمجھائیں اور بتائیں کہ میں اپنے بالا افسر کو بلاتا ہوں تو وہ آپ کے لئے کوئی سہولت مہیا کر دیتا ہے۔لیکن اتنے عرصے میں آرام سے یہ درخواست بھی کر دیں کہ آپ ایک طرف کھڑے ہو جائیں۔اور مہمانوں کو اس سے تعاون بھی کرنا چاہئے تا کہ باقی ٹریفک متاثر نہ ہو۔کیونکہ بعض دفعہ اس بحث میں اور جھگڑوں میں کاروں کی لمبی لائنیں لگ جاتی ہیں اور دوسرے