خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 425
خطبات مسرور جلد 14 425 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 ایک موقع پر بعض مہمانوں سے غیر معمولی سلوک کیا گیا اور بعضوں کو نظر انداز کیا گیا۔یہ سب کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جو بھی انتظام تھا، ضیافت کے کارکن تھے انہوں نے کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رات کو خبر دی کہ رات ریا کیا گیا ہے، بناوٹ کی گئی ہے اور صحیح طرح مہمانوں کی خدمت نہیں کی گئی۔بعض مسکین کھانے سے محروم رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات پر بڑے ناراض ہوئے اور پھر انتظام اپنے ہاتھ میں لیا۔بلکہ یہ بھی روایت میں ہے کہ ان کارکنوں کو چھ مہینے کے لئے قادیان سے ہی نکال دیا۔(ماخوذ از تذکرۃ صفحہ 689۔ایڈیشن چہارم2004ء) پس جب خدمت کے لئے اپنے آپ کو ہم پیش کرتے ہیں تو پھر بغیر کسی تخصیص کے ہر ایک کی خدمت کرنی چاہئے۔ہر جلسے پر آنے والا مہمان جلسے کا مہمان ہے۔ہر ایک سے اچھاسلوک کرناہر ایک سے خوش خلقی سے پیش آنا یہ ضروری ہے۔یہ نہیں کہ فلاں امیر ہے یا فلاں خاص مہمان ہے اس کو فلاں جگہ کھاناکھلانا ہے اور فلاں کو نہیں۔جہاں بھی کھانے کا انتظام ہے وہ کھلائیں۔لیکن عمومی طور پر احمدیوں کو تو ایک جگہ ہی کھانا کھانا چاہئے۔بعض علیحدہ جگہیں خاص مہمانوں کے لئے بنائی گئی ہیں اور وہ غیر از جماعت یا غیر مسلموں کے لئے بنائی گئی ہیں وہاں صرف انہی کو لے جانا چاہئے۔اس بات کا بھی انتظامیہ کو خیال رکھنا چاہئے۔میرے علم میں ہے کہ بعض کارکنان اپنے واقف کاروں کو اس جگہ پر کھانا کھلانے کے لئے لے جاتے ہیں جو صرف مہمانوں کی جگہ ہے۔اس لئے عام طور پر چاہے وہ احمد کی عہدیدار ہے یا کوئی بھی ہے اس کو عام مہمانوں کی جگہ جا کر ہی کھانا کھانا چاہئے۔پھر ساتھ ہی یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس چھوٹی سی خدمت کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی کر رہے ہیں اسے قبول بھی فرمائے اور ہمارے کام ہر قسم کی ریا سے خالی ہوں اور خالصةً لِلہ ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت مہمانوں کی بعض دنوں میں اتنی کثرت ہو جاتی تھی کہ رہنے کے لئے انتظام بھی مشکل لگتا تھا کیونکہ قادیان چھوٹی سی جگہ تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق کہ پریشان نہیں ہونا اور تھکنا نہیں، بے تکلفی کے ماحول میں جو بھی سہولت مہمانوں کے لئے میسر ہو سکتی تھی فرمایا کرتے تھے۔بعض دفعہ ایسے موقعے بھی آئے کہ سردیوں میں مہمانوں کی زیادتی کی وجہ سے اپنے اور اپنے بچوں کے گرم بستر آپ نے مہمانوں کو مہیا کر دیئے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 91-92 روایت نمبر 1118) ایک دفعہ اتنے مہمان آگئے کہ حضرت اماں جان حضرت ام المومنین بڑی پریشان تھیں کہ مہمان ٹھہریں گے کہاں اور کس طرح ان کا انتظام ہو گا؟ اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں ایک کہانی سنائی کہ جنگل میں ایک مسافر کو شام ہو گئی۔رات اندھیری تھی۔قریب کوئی بستی نہیں تھی، کوئی جگہ نہیں تھی،