خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 424

خطبات مسرور جلد 14 424 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 میں کھانا کھلانے والے افسران اور معاونین اس بات کا خیال رکھیں کہ مہمان سے خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے۔خوش اخلاقی سے پیش آنا مہمان کا حق ہے اور میزبان کا فرض ہے۔بعض لوگ کھانے کے معاملے میں کارکنوں کو تکلیف میں ڈالتے ہیں۔مختلف قسم کے سوال کرتے ہیں یا مطالبات کر رہے ہوتے ہیں یہ چاہئے، وہ چاہئے۔لیکن کارکنوں کو پھر بھی برداشت کرنا چاہئے۔کھانا ایک ایسی چیز ہے جس میں کھانا کھلانے والے کا نا مناسب رویہ یا معمولی سا بھی غیر ضروری تبصرہ یا کوئی بات کہہ دینا مہمان کے جذبات کو چوٹ لگاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تو مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے وقت ایسے نمونے دکھاتے تھے جو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھے جائیں گے۔جب ایک صحابی کو مہمان کو اپنے ساتھ لے جانے اور کھانا کھلانے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاوہ آپ کے حکم پر اس مہمان کو اپنے گھر تو لے گئے لیکن بیوی نے کہا کہ گھر میں تو تھوڑا سا کھانا ہے جو بچوں کے لئے ہے۔دونوں میاں بیوی نے مشورہ کیا کہ بچوں کو کسی طرح سلا دو اور پھر جب مہمان کے سامنے کھانا پیش ہو تو دیوایا روشنی جو ہے وہ بھی بجھا دو اور خود گھر والے اس طرح اندھیرے میں اظہار کریں جیسے وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں تاکہ مہمان آرام سے کھانا کھاتا رہے اور اسے یہ احساس نہ ہو کہ گھر والے کھانا نہیں کھارہے۔بہر حال اس ترکیب سے مہمان کو پتا نہ چلا اور گھر والوں نے اس طرح مہمان نوازی کی اور مہمان نے بڑے آرام سے کھانا کھایا۔صبح جب وہ انصاری صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری رات والے عمل اور ترکیب سے تو اللہ تعالیٰ بھی ہنس دیا۔(صحيح البخارى كتاب مناقب الانصار، باب قول الله تعالى عز وجل۔۔۔حديث 3798) تو یہ قربانی اس خاندان نے خاص طور پر اس لئے دی کہ مہمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان تھا۔عمومی طور پر تو صحابہ مہمانوں کی خاطر داری کیا کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ یہ خاص سلوک اس وجہ سے بھی ہوا۔آج ہمارا ہر کارکن یہ قربانی اس لئے دیتا ہے اور اسے اس جذبے کے تحت یہ قربانی دینی چاہئے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے مہمانوں کی خدمت کر رہا ہے گو کہ یہ بھوک کی قربانی اور اپنا کھانا مہمان کو کھلانے کی قربانی حتی کہ بچوں کو بھو کا سلادینے کی قربانی بہت بڑی قربانی ہے اور آجکل تو یہ نہیں دینی پڑتی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیا میں اب ہر جگہ جہاں جماعتیں مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں لنگر چل رہے ہیں اور خاص طور پر جلسے کے دنوں میں تو اس کا خاص اہتمام ہوتا ہے۔ہم نے تو صرف اتنی خدمت کرنی ہے کہ لنگر سے کھانا لے کر مہمان کے سامنے پیش کر دینا ہے اور مہمان سے خوش خلقی سے پیش آنا ہے اور اس بات پر اللہ تعالیٰ خوش ہو جاتا ہے کہ اس نے جلسے پر آنے والے، دین کے لئے سفر کر کے آنے والے مہمانوں کی خدمت کی۔اور اگر صحیح طور پر مہمان نوازی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔