خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 423

خطبات مسرور جلد 14 423 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 پھر ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ معمولی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی نیکی ہے۔(صحيح مسلم كتاب البر والصلة۔۔۔، باب استحباب طلاقة الوجه۔۔۔حديث 2626) دیکھیں اسلام کی تعلیم کیسی خوبصورت تعلیم ہے۔اکرام ضیف کا تو ویسے بھی حکم ہے۔ایک ایسا حکم ہے جس کا ثواب ہے۔پھر یہ مہمان نوازی کرنا کہ آنے والے سے صرف مسکرا کر بات کر لینا یہ صدقہ دیئے جانے جیسے فعل کے برابر ہے اور اس کو صدقے کے فعل کے برابر قرار دے کر دوہرے ثواب کا بھی مورد بنادیا۔ایک مہمان نوازی کا ثواب، ایک خوش اخلاقی سے پیش آکر صدقہ کا ثواب۔پیار سے بات کرنا، خوش خلقی سے بات کرنا نیکی شمار ہو جاتا ہے اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ نے کتنا دینا ہے یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔پھر راستہ دکھانا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک صدقہ ہے۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد و السير، باب فضل من حمل متاع۔۔۔حديث 2891) جو شعبہ اس کام کے لئے مقرر ہے اس کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ سفر کر کے آئے مسافر سے ایک تو خوش اخلاقی سے ملیں پھر معاونین کے ذریعہ انہیں ان کی رہائش کی جگہوں پر پہنچائیں۔خاص طور پر جب عورتیں اور بچے ہوتے ہیں یعنی صرف عورتیں ہوں اور مرد اُن کے ساتھ نہ ہوں، بچے اُن کے ساتھ ہوں تو انہیں قیامگاہوں تک پہنچانا شعبہ استقبال کا یا جو بھی متعلقہ شعبہ ہے اس کا کام ہے اور یہ بڑی ضروری چیز ہے۔بعض دفعہ سامان وغیرہ اٹھانے کے لئے ضرورت پڑ جاتی ہے اس کی مدد کرنی چاہئے۔اسی طرح مسکرا کر اور خوش اخلاقی سے بات کر نا صرف استقبال کا نہیں بلکہ ہر شعبہ میں کام کرنے والے کارکن کے لئے ضروری ہے۔آجکل حالات کی وجہ سے ایمنز (AIMS) کارڈ رکھنا ضروری ہے۔بعض باہر سے آنے والے تعارفی خط اور معلومات لے کر آتے ہیں اور پھر ان کے جلسے کے کارڈز یہاں بنا دیئے جاتے ہیں۔بعض دفعہ ایسے بھی معاملات آ جاتے ہیں کہ تصدیقی خط نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں بیشک تسلی کرنا تو بہت ضروری ہے۔جب تک تسلی نہ ہو کارڈ نہیں بنایا جا سکتا اور تصدیق کی کارروائی ہونی چاہئے۔لیکن اس عرصہ میں آنے والے سے خوش خلقی سے پیش آنا، اس کے انتظار کے لئے بیٹھنے کا مناسب انتظام ہونا، یہ بھی بڑا ضروری ہے۔بعض دفعہ چھوٹے بچے ساتھ ہوتے ہیں جو لمبے انتظار کی وجہ سے بے چین ہو رہے ہوتے ہیں۔اول تو تمام آنے والے مہمانوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جب وہ جلسے پر آئیں تو جماعتی تصدیق کے ساتھ آنا چاہئے یا اپنے ایمنر (AIMS) کارڈ لے کر آنا چاہئے اور اگر کسی وجہ سے یہ رہ گیا ہو تو جیسا کہ میں نے کہا متعلقہ شعبہ کارروائی کے دوران انہیں سہولت میسر کرے کہ وہ آرام سے بیٹھ سکیں۔پھر کھانے کی مہمان نوازی کا تعلق ہے اس میں جو جماعتی رہائشگاہوں میں ٹھہرے ہوئے مہمان ہیں ان کو دو وقت یا تین وقت جو کھانا کھاتے ہیں اس کی مہمان نوازی ضروری ہے۔لیکن جلسے کے تین دنوں میں ہر شامل ہونے والا مہمان جو ہے عموماً جو جلسہ سننے کے لئے آتا ہے کم از کم دو پہر کا کھانا جماعتی انتظام کے تحت کھاتا ہے۔اس