خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد 14 422 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 روحانی اور جسمانی مائدہ حاصل کرتے ہیں اور یہاں برطانیہ میں خلیفہ وقت کی موجودگی کی وجہ سے دنیا کے کونے کونے سے مہمان آتے ہیں اور صرف اس لئے کہ علم دین حاصل کریں اور اپنی روحانی پیاس بجھائیں۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق بے لوث اور بے غرض اور بغیر تھکے اور بغیر ماتھے پر بل لائے ان مہمانوں کی خدمت کر رہے ہیں اور یہی ہمارا فرض ہے کہ ان مہمانوں کی خدمت کریں اور جلسہ کے انتظامات کو احسن رنگ میں انجام دینے کی کوشش کریں۔جلسے پر غیر احمدی اور غیر مسلم بھی آتے ہیں اور ہمیشہ کارکنوں کے کام سے متاثر ہوتے ہیں اور اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ کس طرح چھوٹے چھوٹے بچے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔اپنے ذمہ لگائی گئی ڈیوٹی کو سر انجام دے رہے ہیں اور بڑی ذمہ داری سے سر انجام دے رہے ہیں۔گزشتہ سال ایک مہمان یوگنڈا سے آئے ہوئے تھے۔وہاں کے وزیر بھی ہیں۔کہنے لگے کہ میں مہمان نوازی اور انتظامات کو دیکھ کر حیران ہوا کہ کس طرح لوگ رضا کارانہ طور پر اتنی قربانی کر رہے ہیں۔کہنے لگے میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ میں ایک ایسے جلسے میں شامل ہونے جا رہا ہوں جہاں انسان نہیں بلکہ فرشتے کام کرتے نظر آئیں گے۔کہتے ہیں کہ میں دفعہ بھی کوئی چیز مانگو تو ہنتے ہوئے پیش کرتے تھے۔بہت سے اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ بچے کھانے کی ڈیوٹی پر کھانا کھلا رہے ہوتے تو انتہائی بشاش چہرے کے ساتھ۔اگر جلسے کی مار کی میں پانی پلا رہے ہوتے تو انتہائی کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ۔بار بار ضرورت کا پوچھتے ، پانی کا پوچھتے اور یہ صرف خاص مہمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر مہمان کے لئے کارکنوں کا یہ سلوک تھا اور یہی وہ وصف ہے خدمت کے جذبے کا جو صرف جماعت احمدیہ کے ہر کارکن کا خاصہ ہے اور ہونا چاہئے۔پس اس خاص وصف کو ہر کارکن نے ہمیشہ زندہ رکھنا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبہ میں کام کر رہا ہو۔ہمارے جلسے کے مہمان جب آتے ہیں تو ان کا واسطہ مختلف شعبوں سے پڑتا ہے۔آتے ہی ان کو شعبہ استقبال سے واسطہ پڑتا ہے۔شعبہ استقبال عموماً مہمانوں کا بڑی اچھی طرح استقبال کرتا ہے۔مہمان جب سفر کر کے آتا ہے تو اس کو تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔سفر میں چاہے جتنی بھی سہولتیں میسر ہوں اس زمانے میں بھی سفر کی کوفت اور تھکاوٹ ہوتی ہے۔اس لئے شعبہ استقبال کو اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ایئر پورٹ پر تو مہمانوں کے استقبال کا شعبہ کام کر رہا ہوتا ہے اور عموماً اچھا انتظام ہوتا ہے لیکن بعض ہمسایہ ممالک سے جو مہمان سفر کر کے آتے ہیں وہ بذریعہ کار آتے ہیں یا بذریعہ بس کئی گھنٹے کا سفر کر کے آرہے ہوتے ہیں۔تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔اس لئے اگر یہ آنے والے جماعتی قیام گاہوں میں ٹھہر رہے ہوں تو وہاں کی انتظامیہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو یا درکھنا چاہئے کہ اپنے بھائی کو مسکر اکر ملو اور یہ صدقہ ہے۔(سنن الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء فى طلاقة الوجه۔۔۔حديث (1970)