خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 421
خطبات مسرور جلد 14 421 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 ہو گی۔بعض کی آج کل سے شروع ہو چکی ہے جبکہ مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔تو ان سب کو یاد دہانی کے طور پر اس وقت میں حسب دستور مختصر آپکچھ کہوں گا۔بعض دفعہ بعض لوگوں کا جذبہ خدمت بیشک بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن مزاج ہر ایک کا اپنا ہے۔بعض عدم حوصلہ کا شکار ہوتے ہیں۔بعض عدم علم کی وجہ سے بعض ایسی باتیں کر جاتے ہیں یا ان سے ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں جو مہمانوں کیلئے تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں اور یاد دہانی کروانے سے رضا کارانہ طور پر کام کرنے والے کارکن ہوشیار بھی ہو جاتے ہیں اور زیادہ توجہ سے اپنے فرائض سر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ مجھے تو اس بات میں معمولی سا بھی تحفظ نہیں ہے کہ کارکن خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر عموما کام نہیں کرتے۔یقینا یہ سب کار کن خدمت کے جذبہ سے کام کرنے والے ہیں۔یاد دہانی کروانا اور ہوشیار کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے میں ہر سال جلسہ سے ایک جمعہ پہلے اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے مہمانوں کے ذکر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کا ذکر کر کے مہمان نوازی کی اہمیت بتائی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف موقعوں پر مہمان نوازی کی اہمیت اور اس وصف کو بیان فرمایا ہے۔اس زمانے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس طرف خاص توجہ دلائی ہے بلکہ اپنی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد دین کی خاطر سفر کر کے آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کو بھی قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ : تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرقہ سے آنے والے ہیں۔پھر فرمایا کہ یہ شاخ بھی برابر نشو و نما میں ہے یعنی بڑھ رہی ہے۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہزاروں کی تعداد میں یہ لوگ آرہے ہیں۔(ماخوذ از فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 14) قادیان کی چھوٹی سی بستی میں جہاں اس زمانہ میں کسی قسم کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے بٹالہ سے یا امر تسر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سامان منگوایا کرتے تھے۔ایسے حالات میں بعض دفعہ انسان پریشان بھی ہو جاتا ہے کہ ذرائع آمد ورفت بھی نہیں ہیں۔بعض دفعہ پیدل جانا ہو تا تھا۔عموماً ٹانگے پہ ، یگہ پہ جاتے تھے۔ایسے حالات میں ایک دور دراز علاقے میں مہمان نوازی کرنا بہت مشکل ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو مضبوط کرنے کے لئے آپ کو پہلے سے ہی فرما دیا تھا۔عربی کا الہام ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لوگ کثرت سے تیری طرف رجوع کریں گے سو تیرے پر واجب ہے کہ تو ان سے بد خلقی نہ کرے اور تجھے لازم ہے کہ ان کی کثرت دیکھ کر تھک نہ جائے۔(ماخوذ از لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 242) آج دنیا کے کونے کونے میں جلسوں کے انعقاد یہ نظارہ دکھاتے ہیں کہ لوگ کثرت سے آتے ہیں اور