خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 420
خطبات مسرور جلد 14 420 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اگست 2016 پوچھا گیا کہ یہ سارا کام تم نے کیا ہے اس کے بدلے میں تمہیں کیا ملتا ہے ؟ کتنی رقم ملے گی ؟ کتنے ڈالر ملیں گے ؟ یہ اکثر سے سوال کیا گیا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ امریکہ میں پلا بڑھا ہے اور اس ملک میں دنیاداری کی سوچ ہے تو انہوں نے یہی جواب دیا اور اس نوجوان کا بھی یہی جواب تھا کہ ہم تو رضا کارانہ طور پر کام کرتے ہیں جو مز دوری ہمیں ملتی ہے دنیا داروں کی سوچ سے وہ بالا ہے ہم تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔اور یہ وہ مزاج ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں رہنے والے احمدی کا ہے۔چاہے وہ افریقن ہے یا انڈو نیشین ہے یا جزائر کا رہنے والا ہے یا مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کا رہنے والا ہے۔جب دنیا کی ترجیحات سکولوں کالجوں میں چھٹیوں کے دوران کھیلنا کودنا اور سیر میں کرنا ہے، جب دنیاوی نوکریاں کرنے والوں کی ترجیحات نوکریوں سے رخصت ملنے پر آرام کرنا اور خاندان کے ساتھ رخصتیں گزارنا ہے، اس وقت ایک احمدی کی ترجیحات مختلف ہیں۔اگر ان رخصتوں میں جلسہ سالانہ آرہا ہے تو ان دنوں میں پڑھے لکھے بھی اور ان پڑھ بھی، افسر بھی اور ماتحت بھی، پیشہ ور ماہرین بھی اور عام مزدور بھی اور طالبعلم بھی اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں۔باقی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو جلسے بڑے بڑے ہالوں میں یا ایسی جگہ پر ہوتے ہیں جہاں بہت سی سہولتیں میسر ہیں لیکن برطانیہ کا جلسہ تو ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں ہر انتظام عارضی طور پر کرنا ہے اور ہر ممکنہ سہولت جو کہیں بھی میسر آسکتی ہے یا جو بھی دی جا سکتی ہے اسے مہیا بھی کرنا ہے۔اور پھر کو نسل کی طرف سے یہ شرط بھی ہے کہ کام شروع کرنے کی ابتدا سے لے کر جلسہ کے بعد ہر چیز کو سمیٹنے اور اس جگہ کو پہلی جیسی زرعی زمین یا فارم لینڈ بھی بنانا ہے اور یہ سب کام اٹھائیس دن کے اندر اندر کرنا ہے۔تو اس لحاظ سے ایک محدود وقت میں بہت بڑے وسیع کام کو کرنے کے لئے بہت زیادہ رضا کاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔کام کو شروع کرنے سے ختم کرنے کا عرصہ ایک طرف تو کام کی نوعیت کے لحاظ سے بہت تھوڑا سا وقت ہے لیکن والنٹیئر ز کے کام کرنے کے لحاظ سے اٹھائیس دن بلکہ بعض کام ایسے ہیں جو اس سے پہلے بھی شروع ہو جاتے ہیں جو براہ راست جلسہ گاہ میں نہیں ہو رہے ہوتے لیکن ان کی تیاری کے لئے اس سے بھی دو تین ہفتے پہلے رضا کار کام شروع کر دیتے ہیں۔گویا یہاں کے کارکن کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے وقت اور مال کی قربانی تقریب ڈیڑھ دو مہینے تک کرتے رہتے ہیں اور یہ عرصہ ایک انسان کے کام کرنے کے لئے، رضا کارانہ طور پر کام کرنے کیلئے بہت بڑا عرصہ ہے۔پس اس لحاظ سے تو برطانیہ کے جلسہ کے رضا کاروں کو جلسہ کے کام کے لئے قربانی اور جلسے کی ڈیوٹی کی اہمیت کا پتا ہے۔سالہا سال سے یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں لیکن پھر بھی ایسے بہت سے کارکنان ہوتے ہیں جو نئے شامل ہو رہے ہوتے ہیں۔بعض کا جلسہ کے دنوں میں براہ راست مہمانوں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ان کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔بعض کی جلسے کے دنوں میں شروع