خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 417

خطبات مسرور جلد 14 417 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 امت واحدہ بن کر اسلام کی پرامن اور خوبصورت تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے والے اور پھیلانے والے ہوں۔نماز کے بعد میں تین جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرم ایون در نان (Evan Vernon) صاحب کا ہے۔Belize کے رہنے والے ہیں۔گزشتہ دنوں 49 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔Belize جماعت کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور اس وقت سیکرٹری تبلیغ کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔2014ء میں جلسہ سالانہ یو کے میں بھی شامل ہوئے۔بڑے فدائی اور مخلص احمدی اور ایک جوش رکھنے والے احمدی تھے اور باوجود اس کے کہ تھوڑا عرصہ پہلے ہی احمد کی ہوئے تھے لیکن جماعت کے ساتھ ایسا اخلاص اور ایسی وفا اور ایسا تعلق تھا کہ بہت سے شاید پرانے احمدیوں میں بھی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ایسے اور بھی فدائی ہمیشہ اللہ تعالیٰ عطا فرما تار ہے۔دوسرا جنازه سید نادر سیدین کا ہے جو ربوہ میں ہمارے ناصر فائر اینڈ ریسکیو سروس کے انچارج تھے۔سید غلام سیدین کے بیٹے تھے۔ان کی 23 جولائی 2016ء کو پمز ہسپتال اسلام آباد میں 55 سال کی عمر میں وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔دل کو خون مہیا کرنے والی آرٹریوں میں clot کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی۔ان کی دادی نے 1905ء میں کوہاٹ سے خط لکھ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی لیکن ان کے باقی لوگ احمدی نہیں ہوئے تھے۔سید نادر سیدین نے 1982ء میں خود تحقیق کر کے بیعت کی۔کراچی سے پھر انہوں نے بی۔ایس۔سی کی۔اس کے بعد یہ وہیں کراچی میں ہی رہے اور 1989ء میں یہ کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہو گئے۔مجلس خدام الاحمدیہ ضلع کی سطح پر ان کو بہت سارے شعبہ جات میں خدمت سر انجام دینے کی توفیق ملی۔معتمد ضلع رہے۔خدمت خلق کے شعبہ میں رہے۔مختلف جگہوں پر ان کو میڈیکل کیمپ لگانے کی توفیق ملی۔انچارج رائٹر فورم مجلس خدام الاحمدیہ ضلع اسلام آباد کے طور پر خدمات کی توفیق ملی۔1999ء میں اسلام آباد سے ربوہ شفٹ ہو گئے اور پھر انہوں نے 2000ء میں اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔مجلس خدام الاحمدیہ میں جیسا کہ میں نے بتایاناصر فائر اینڈریسکیو سروس کا جو شعبہ ہے اس کے یہ انچارج رہے۔اسی طرح سپورٹ کمپلیکس (Sport Complex) کے بھی انچارج رہے۔جوڈو کراٹے کے اور مارشل آرٹ کے بڑے ماہر تھے اور بین الا قوامی سطح کے مشہور مارشل آرٹس کے ماہر تھے اور پاکستان کی نمائندگی دوسرے ملکوں میں کرتے رہے۔انہوں نے ربوہ میں بھی خدام کو اور بچوں کو مارشل آرٹس کی ٹریننگ دی۔خلافت سے بڑا گہرا تعلق تھا۔بڑے اخلاص و وفا سے خدمت کرنے والے تھے اور بڑے سادہ مزاج تھے۔اور ہمیشہ یہ خوبی ان کی تھی کہ ان کا چہرہ مسکر اتار ہتا تھا۔کتنی بھی طبیعت خراب ہو، کیسی بھی مشکلات ہوں ہمیشہ یہ خوش رہے۔اللہ تعالیٰ ان سے وہاں بھی ایسا سلوک کرے جو ان کے لئے بھی خوشی کا باعث ہو اور ان کی نسلوں کے لئے بھی۔اللہ تعالیٰ کے