خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد 14 416 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 پھل ہے۔اس کے نتیجہ میں ملتا ہے " اگر دنیا کا حسنہ انسان کو مل جاوے تو وہ فال نیک آخرت کے واسطے ہے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 303-302) پھر آگ کے عذاب سے بچانے کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی۔دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہے۔اور اس کے بارے میں پھر آپ نے فرمایا کہ اس میں طرح طرح کی پریشانیاں ہیں۔خوف ہیں۔رشتہ داروں کے ساتھ معاملات ہیں۔امراض وغیرہ ہیں۔سب یہ چیزیں شامل ہیں۔فرمایا کہ مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 190) پھر حالات خراب ہوں، ابتلا ہوں بعض دفعہ انسان ثابت قدم نہیں رہتا تو دشمن کے خلاف ثبات قدم کی یہ دعا ہمیں سکھائی۔اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کی دعا سکھائی۔ایک دعا یہ ہے کہ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (آل عمران : 148) کہ اے ہمارے رب! ہمارے قصور اور کو تاہیاں اور ہمارے اعمال میں ہماری زیادتیاں معاف فرما دے اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور کافروں کے خلاف ہماری مدد کر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : " پس ظاہر ہے کہ اگر خدا گناہ بخشنے والا نہ ہو تا تو ایسی دعا ہر گز نہ سکھاتا۔" (چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 25) پھر قرآن کریم کی ایک دعا ہے۔رَبِّ إِنِّي لِمَا انْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: 25) کہ اے میرے ربّ اپنی خیر سے، اپنی بھلائی سے جو کچھ بھی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔یہ دعا بھی کرنی چاہئے۔قرآن کریم میں اور بھی بہت ساری دعائیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے پڑھتے رہنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے اور یہ اس لئے فرمایا ہے کہ انسان خالص ہو کر اس سے مانگے تو اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں ہیں۔ایک دعا کے بارے میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے آپ فرماتے ہیں کہ یہ مجھ پر القاء ہوئی۔یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ دعا سکھائی ہے اور وہ یہ ہے کہ رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي واز حَمنِی فرمایا کہ "میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسم اعظم ہے اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جو اسے پڑھے گاہر ایک آفت سے اُسے نجات ہو گی۔" اللہ تعالیٰ جماعت کو مجموعی طور پر بھی اور افراد جماعت کو انفرادی طور پر بھی ہر شر سے بچائے اور مخالفین کے شر اُن پر الٹائے۔مسلمانوں کو عقل اور سمجھ بھی دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی آواز کو سنیں اور (ملفوظات جلد 4 صفحہ 264)