خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 415

خطبات مسرور جلد 14 415 مخطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 طرف رجوع کرتا ہے اور آپ ان کی حفاظت فرماتا ہے۔۔۔" پھر آپ نے فرمایا کہ " خد اتعالیٰ کبھی کسی صادق سے بے وفائی نہیں کرتا۔ساری دنیا بھی اگر اُس کی دشمن ہو اور اس سے عداوت کرے تو اس کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔خدا بڑی طاقت اور قدرت والا ہے اور انسان ایمان کی قوت کے ساتھ اس کی حفاظت کے نیچے آتا ہے اور اس کی قدرتوں اور طاقتوں کے عجائبات دیکھتا ہے۔پھر اس پر کوئی ذلت نہ آوے گی۔یاد رکھو خد اتعالیٰ زبر دست پر بھی زبر دست ہے۔یعنی کوئی بہت زیادہ طاقتور ہے تو اس سے بھی طاقتور ہے فرمایا " بلکہ اپنے امر پر بھی غالب ہے۔سچے دل سے نمازیں پڑھو اور دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے سب رشتے داروں اور عزیزوں کو یہی تعلیم دو۔پورے طور پر خدا کی طرف ہو کر کوئی نقصان نہیں اٹھاتا۔نقصان کی اصل جڑ گناہ ہے۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 67 تا 70) پس ہمیں خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے اور اس سے مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔وہ تمام بلاؤں کو اور مشکلات کو دور فرمائے اور دشمن کو خائب و خاسر فرمائے۔مخالفین کے جماعت کے خلاف ہر حربے اور ہر حملے کو ناکام و نامراد کر دے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بھی بعض دعائیں سکھائی ہیں ان کو بھی پڑھنا چاہیئے اور سمجھ کر پڑھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآنی دعاؤں کے بارے میں ہماری یہ بھی رہنمائی فرمائی اور یہ نکتہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو دعائیں سکھائی ہیں وہ بتائی ہی اس لئے گئی ہیں کہ ایک مومن خالص ہو کر جب یہ دعائیں مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔پس بلاؤں کے دُور ہونے اور شرور سے محفوظ رہنے کے لئے ہمیں ان قرآنی دعاؤں پر بھی زور دینا چاہئے۔قرآن کریم نے ایک دعا ہمیں سکھائی جو ہم عموماً نماز میں بھی پڑھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کو بہت زیادہ پڑھنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ دعا یہ ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة:202) کہ اے اللہ ہمیں اس دنیا کی حسنات سے بھی نواز اور آخرت کی حسنات سے بھی نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : " انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب، شدائد، ابتلاوغیرہ اسے پیش آتے ہیں اُن سے امن میں رہے۔دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اُسے خدا سے دُور کرتی ہیں ان سے نجات پاوے۔" فرمایا کہ "دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی دونو طور پر یہ ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلّت سے محفوظ رہے۔فرمایا۔اور فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً میں جو آخرت کا پہلو ہے وہ بھی دنیا کے حسنہ کا ثمرہ ہے اس کا