خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 414
خطبات مسرور جلد 14 414 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات کے بارے میں فرمایا کہ ابتلاؤں اور آگ سے بچنے کے لئے صدقات دو۔(ماخوذ از کنز العمال جلد 5 صفحه 14 كتاب الزكوة باب في السخاء و الصدقة حديث 15978،15975 دار الكتب العلمية بيروت لبنان 2004ء) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا فرض ہے۔صحابہ کے پوچھنے پر کہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ کیا کرے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ معروف باتوں پر عمل کرے۔اسلامی احکامات جو ہیں عمل کرے۔نیکیوں پر عمل کرے اور بری باتوں سے روکے۔یہی اس کے لئے صدقہ ہے۔ان پر (الصحيح البخاري كتاب الادب باب كل معروف صدقة حديث 6022) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی سمجھے کہ جس نے مال کا صدقہ دے دیاوہ بیشک معروف باتوں پر عمل نہ کرے اور بری باتوں سے نہ بھی رکے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے بدلے میں صدقہ دے دیا۔نہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کی نظر ہے کہ اگر کوئی مجبور ہے، مال نہیں رکھتا تو نیکیاں کرنا اور برائیوں سے رکنا ہی اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے ورنہ اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا یعنی نیکیوں پر عمل نہیں کرتا اور برائیوں سے رکتا نہیں ہے تو اس کے مال کا صدقہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔جس طرح دکھاوے کی نمازیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اور نمازیوں کے منہ پر ماری جاتی ہیں اسی طرح صدقہ کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ایک مومن سے تو یہی توقع کی جاتی ہے کہ جب وہ صدقہ کرتا ہے ، دعائیں کرتا ہے تو پھر اپنے ہر عمل کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے اور جب ایسی حالت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کا ذریعہ بنتی ہے اور مشکلات اور بلاؤں سے انسان کو بچاتی ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ "صدقہ اور دعا سے بلائل جاتی ہے۔" پھر دعاؤں کے مقبول ہونے کے لئے کیا حالت ہونی چاہئے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ " دعاؤں (ملفوظات جلد 5 صفحہ 82-81) کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے۔اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 27) پس اللہ تعالیٰ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے دعاؤں اور صدقات پر زور دینے کی بہت زیادہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر دعاؤں کی طرف ہمیں توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " میں تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہئے کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو۔نمازیں پڑھو اور توبہ کرتے رہو۔جب یہ حالت ہو گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا اور اگر سارے گھر میں ایک شخص بھی ایسا ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے گا۔۔۔" فرمایا ” جو خاص ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی