خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 413

خطبات مسرور جلد 14 413 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 والی نہ ہوں۔پس اپنی پر دہ پوشی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ہمیں محنت اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ہمارے تو اسلام مخالف طاقتیں بھی خلاف ہیں اور نام نہاد علماء کے پیچھے چلنے والے مسلمان بھی خلاف ہیں۔لیکن ہم نے ہر خوف کو دور کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی تکمیل کے لئے کوشش کرنی ہے۔اب جو بعض جر نلسٹ ہیں، اخباری نمائندے ہیں وہ سوال بھی کرتے ہیں۔یورپ میں بھی مجھ سے سوال کیا۔اس دفعہ دورے پر سویڈن میں بھی ایک جر نلسٹ نے سوال کیا کہ تمہاری تو شدت پسند گروہوں کی طرف سے مخالفت ہے اور تمہاری جانوں کو خطرہ ہے تو کس طرح تم اپنے کام کرو گے ؟ میں نے کہا ہاں بیشک ٹھیک ہے کہ مجھے خطرہ ہے۔جماعت کے افراد کو خطرہ ہے۔لیکن یہ خطرے ہمیں اپنے کام سے نہیں روک سکتے۔خطرہ تو اب ہر ایک کو ہر جگہ ہے۔اسے میں نے کہا تمہیں بھی خطرہ ہے۔اس میں احمدی یا غیر مسلم کا سوال نہیں ہے۔جو بھی ان مفاد پرست لوگوں کے ایجنڈے پر عمل نہیں کرتا یا ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملا تا اس کی جان خطرے میں ہے۔لیکن احمدیوں کے تو وہ لوگ بھی مخالف ہیں جو قومیت پرست ہیں یا اسلام مخالف ہیں تو ہمیں تو دونوں طرف سے خطرہ ہے۔لیکن بہر حال ایک مومن ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتا اور ایمان پر قائم رہتا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر احمدی رہے گا۔دنیا کے جو حالات ہیں اس کے لئے اور ہر احمدی کو ہر شر سے بچنے کے لئے اور جماعت کے من حیث الجماعت دنیا میں ہر جگہ شریروں کے شر سے بچنے کے لئے ہمیں دعاؤں اور صدقات پر توجہ دینی چاہئے۔ان دنوں میں خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا آجکل حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ شریروں کے شر ان پر الٹائے جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔اسلام کے نام پر ظلم وتعدی کر کے اللہ تعالیٰ کے دین کو بد نام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی پکڑ کے جلد سامان کرے اور تمام بلاؤں اور مشکلات کو دور فرمائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ جس کے لئے باب دعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی جاتی ہے ان میں سے سب سے زیادہ اسے یعنی اللہ تعالیٰ کو عافیت طلب کرنا محبوب ہے۔اس کی عافیت میں آنا اس کو محبوب ہے۔اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا اس ابتلا کے موقع پر جو آچکا ہو اور اس ابتلا کے مقابلے پر جو ابھی نہ آیا ہو نفع دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندو تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔(سنن الترمذى ابواب الدعوات حديث 3548) پھر آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ قابل عزت اور کوئی چیز نہیں ہے۔(سنن الترمذى ابواب الدعوات ، باب ما جاء في فضل الدعا حديث 3370)