خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 412

خطبات مسرور جلد 14 412 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 کے فضل سے میڈیا کے ذریعہ سے اس کا اچھا اثر بھی ہو رہا ہے۔ان کے کالم لکھنے والے خود لکھتے ہیں۔اب فرانس میں جو پادری کا ظالمانہ قتل ہوا اس پر ہی یہاں ایک لکھنے والے نے یہ لکھا کہ یہ عمل اس بات کی طرف توجہ پھیر تا ہے کہ دنیا میں مذہبی جنگ شروع ہو چکی ہے۔لیکن وہ خود ہی لکھتا ہے۔حقیقت یہ نہیں ہے۔یہ مذہب کی آڑ میں مفاد پرستوں اور نفسیاتی مریضوں کی جنگ ہے۔پوپ صاحب نے بھی بڑا اچھا بیان دیا کہ یہ بیشک بین الا قوامی جنگ بن گئی ہے لیکن یہ مذہبی جنگ نہیں ہے بلکہ مفادات کی جنگ ہے۔ان لوگوں کی جنگ ہے جن کے اپنے مفادات ہیں کیونکہ کوئی مذہب بھی ظلم کی تعلیم نہیں دیتا۔ابھی تک تو یہ غیر خود ہی اپنے لوگوں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔لیکن یہ ظلم جب بڑھتے جائیں گے تو پھر رد عمل بھی ہوتے ہیں۔اس لئے ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں کہ ہم اپنا اسلام کا، امن کا پیغام دنیا میں ہر جگہ پہنچائیں۔بہر حال ایک طرف تو یہ ہے لیکن ایسے بھی ہیں جن تک ہمارا پیغام پہنچا ہوا ہے لیکن وہ منفی معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی نے مجھے لکھا کہ ایک شخص نے جو غالباً اسلام سے مرتد ہوا ہوا ہے میرے حوالے سے ایک ٹویٹ (Tweet) کیا اور شاید اس میں اس نے میری تصویر بھی دی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم و بربریت کی مناہی کی ہے۔لیکن اس بیان کے بعد پھر آگے اپنی طرف سے اس نے استہزائیہ انداز میں یہ لکھ دیا کہ یہ حکم عورتوں کے لئے نہیں ہے ، اسلام کو چھوڑنے والوں کے لئے نہیں ہے، جو ارتداد اختیار کرتے ہیں ان کے لئے نہیں ہے۔فلاں چیز کے لئے نہیں ہے، فلاں چیز کے لئے نہیں ہے۔تو ایسے بھی ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اسلام کی امن پسندی کی جو تصویر جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے اس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں تو اس اثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ذریعہ جو آجکل ٹویٹ (Tweet)اور فیس بک(Facebook) اور دوسرے مختلف ذرائع سے اپنایا جاتا ہے اس میں کئی ہزار لوگوں تک بلکہ لاکھوں تک یہ پیغام پہنچ جاتے ہیں۔پس ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھنا ہمارا کام ہے اور ان کا جواب دینا ہمارا کام ہے۔دنیا تک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کا ابھی بہت کام ہے جو ہم نے کرنا ہے۔گو کہ دنیا میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے اسلام کا پہلے سے بہت زیادہ تعارف ہو چکا ہے۔لیکن ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تسلی بخش کام ہو گیا۔مخالفت کے اس دور میں جو غیر مسلموں کی طرف سے اسلام کی بھی مخالفت ہے اور مسلمانوں کی طرف سے جماعت کی بھی مخالفت ہے اس میں ہمیں بڑی حکمت اور محنت سے کام کرنا ہو گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام وہ مذہب ہے جس نے انشاء اللہ دنیا میں پھیلنا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اب احمدیت کے ذریعہ سے ہونی ہے انشاء اللہ تعالی۔یہ اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہے لیکن ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ یہ ترقی کے نظارے ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ سکیں اور ہماری کمزوریاں اور کو تاہیاں اس ترقی کو ہم سے دور کرنے