خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 411
خطبات مسرور جلد 14 411 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 مسلمانوں کا وہ گروہ جو جہاد کی غلطی اور غلط فہمی میں مبتلا ہیں انہوں نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ کفار کا مال ناجائز طور پر لینا بھی درست ہے۔" فرماتے ہیں کہ بلکہ "خود میری نسبت بھی ان لوگوں نے فتویٰ دیا کہ ان کا مال لوٹ لو"۔یہ فتویٰ غیر احمدی علماء کا جماعت احمدیہ کے لوگوں کے لئے آج بھی جاری ہے۔آپ فرماتے ہیں لوگوں نے فتویٰ دیا ہے کہ ان کا مال لوٹ لو یعنی احمدیوں کا یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا۔فرماتے ہیں بلکہ یہاں تک بھی کہ ان کی بیویاں نکال لو۔حالانکہ اسلام میں اس قسم کی ناپاک تعلیمیں نہ تھیں۔وہ تو ایک صاف اور مصفی مذہب تھا۔اسلام کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ جیسے باپ اپنے حقوق ابوت کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چاہتا ہے کہ اولاد میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ہو۔وہ نہیں چاہتا کہ ایک دوسرے کو مارے۔اسلام بھی جہاں یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہ ہو وہاں اس کا یہ بھی منشاء ہے کہ نوع انسان میں مودت اور وحدت ہو۔" لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 281) پس یہ تعلیم ہے جس کو اپنا کر مسلمان دنیا میں دوبارہ اسلام کی شان و شوکت قائم کر سکتے ہیں کہ خدا کے حق کو بھی پہچانیں اور ایک دوسرے کے حق کو بھی پہچانیں۔نوع انسان میں محبت اور پیار پیدا کرنے کی کوشش کریں قطع نظر اس کے کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ظلم سے کام لے کر معصوموں کو قتل کرنے کی بجائے اسلام کی امن صلح اور آشتی کی تلوار سے دلوں کو گھائل کر کے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے قدموں میں لا کر ڈالیں۔خود کش حملے کر کے یا ظلم کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے کی بجائے اس کا پیار اور قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اسلام کی آغوش کو باپ کی محبت اور رحمت کا سایہ بنائیں نہ کہ اپنی ظالمانہ حرکتوں کی وجہ سے اسلام پر اعتراض کرنے والوں اور حملہ کرنے والوں کو مزید مواقع فراہم کریں۔اگر یہ باز نہیں آئیں گے تو یاد رکھیں کہ دنیاوی حیلوں اور حملوں سے کبھی بھی اسلام کو دنیا میں پھیلا نہیں سکتے۔ہم احمدیوں کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہر حملہ جو اسلام کے نام پر یہ بھٹکے ہوئے لوگ کرتے ہیں ہمیں پہلے سے بڑھ کر ہماری ذمہ داریاں پوری کرنے کی طرف توجہ دلانے والا ہونا چاہئے۔ہر ایسی حرکت جس سے اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے اس کے بعد ہم نے دنیا کو بتانا ہے کہ میرے مذہب کی بنیاد امن اور سلامتی پر ہے۔ہم میں سے ہر ایک نے یہ بتانا ہے۔اگر اسلام کے پیروؤں میں سے کوئی ایسی حرکت کرتا ہے جو امن اور سلامتی کو برباد کرنے والی ہے تو یہ اس شخص یا گروہ کا ذاتی اور اپنے مفاد حاصل کرنے والا عمل ہے۔اسلام کی تعلیم سے اس کا کوئی بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔یہ سراسر نا جائز چیزیں ہیں۔اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو یہ عمل کرتے ہیں نہ کہ اسلامی تعلیم پر۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت احمد یہ اس بات کے لئے ہر ملک میں کوشش کرتی ہے اور اب اللہ تعالیٰ