خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 410
خطبات مسرور جلد 14 410 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 کے خلفاء راشدین اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے کسی عمل سے یہ ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین کا نام اسلام رکھا ہے اور یہ نام ہی دہشتگردی اور جبر و تشدد کو ر ڈ کرتا ہے اور امن و صلح اور آشتی کا پیغام دیتا ہے۔اسلام کے معنی ہی امن میں رہنا اور امن دینا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَاللهُ يَدْعُوا إِلى دَارِ السَّلَامِ (یونس:26) اور اللہ تعالیٰ سلامتی اور امن کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔پھر ایک حقیقی مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا رحم اور اس کا فضل مانگتا ہے لیکن یہ لوگ جو ظالم لوگ ہیں یہ نہ تو قرآن کریم کو مانتے ہیں، نہ اس پر عمل کرتے ہیں، نہ نمازیں پڑھتے ہیں۔انہوں نے تو اپنا ایک نیادین اور نئی شریعت بنائی ہوئی ہے۔بہر حال جب ایک حقیقی مسلمان سلامتی مانگتا ہے، نماز پڑھتا ہے تو پھر شرارت شوخی اور فسق و فجور سے بچتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز بری اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔پھر اسلام کہتا ہے سلام کو رواج دو اور سلامتی پھیلاؤ۔سلام کہنا صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔گو کہ آجکل پاکستان میں وہاں کے ملکی قانون نے علماء کے زیر اثر اس پر بھی اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے یا monopolize کیا ہے کہ سوائے مسلمانوں کے کوئی سلام نہیں کہہ سکتا اور احمدی تو بالکل سلام نہیں کہہ سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو بلا تخصیص سب کو سلام کہا جاتا تھا۔(ماخوذ از الصحيح البخارى كتاب الايمان باب اطعام الطعام الاسلام حدیث 12) من اسلام کی امن قائم کرنے کے لئے یہ چند خوبیاں جو میں نے بیان کی ہیں یہ مختصر آمیں نے بعض باتیں بتائی ہیں۔تفصیل میں جائیں اور کسی بھی رنگ میں دیکھ لیں، کسی بھی حکم کو لے لیں تو اسلام امن صلح اور آشتی کا مذہب ہے نہ کہ دہشت گردی کا۔اگر دنیا کے دل جیتے جاسکتے ہیں، اگر اسلام کو دنیا میں پھیلایا جا سکتا ہے تو اس کی خوبصورت تعلیم سے، نہ کہ شدت پسند لوگوں اور علماء کی خود ساختہ تعلیم سے۔لیکن یہ راستہ تو وہی دکھا سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کا امام بنا کر بھیجا ہے۔انصاف تو وہی قائم کر سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔حکم اور عدل بنا کر بھیجا ہے۔اسلام کی خوبصورت تعلیم کو وہی لاگو کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر فائز کیا ہے۔ہم احمد کی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے زمانے کے امام اور مسیح موعود اور مہدی معہود کو مانا اور دنیا کے ان ظلموں میں شامل ہونے سے بچے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اسلام نے اپنی تعلیم کے دو حصہ کئے ہیں۔اول حقوق اللہ اور دوم حقوق العباد۔حق اللہ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے اور حق العباد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی کریں۔یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفت مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں۔ہمدردی اور سلوک الگ چیز ہے اور مخالفت مذہب دوسری شئے۔