خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 409
خطبات مسرور جلد 14 409 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2016 حکومتیں بجائے اس کے کہ عوام کی بھلائی اور بہتری کے لئے کام کریں اپنے مفادات کو مقدم رکھے ہوئے ہیں۔مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔برداشت کا مادہ سربراہوں میں نہیں رہا۔اب ترکی میں گزشتہ دنوں جو بغاوت ہوئی بیشک یہ بغاوت کسی طرح بھی اسلامی تعلیم کے مطابق justified نہیں ہے۔لیکن اس کے نتیجہ میں حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں یا کر رہی ہے وہ بھی ظالمانہ ہیں کہ جتنے بھی حکومت کے سیاسی لحاظ سے مخالف ہیں چاہے وہ فساد میں شامل بھی نہیں ہیں ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔یہ دیکھ بھی چکے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں جلد یا کچھ عرصہ بعد رد عمل ظاہر ہوتا ہے۔لیکن بہر حال اگر خ جاری رہے تو رد عمل ضرور ہوتا ہے اور پھر اس رد عمل کو اسلام مخالف طاقتیں ہوا دیتی ہیں، اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔بڑی طاقتیں اپنا اسلحہ بیچتی ہیں اور دونوں طرف کی ہمدرد بن جاتی ہیں۔عراق، لیبیا، شام وغیرہ میں یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود مسلمان حکمرانوں کو سمجھ نہیں آتی۔اگر قرآن کریم کی تعلیم پر ہی غور نہیں کرنا، اگر مسلمان بن کر نہیں رہنا تو عقل کا تو تقاضا یہ ہے کہ سوچ سمجھ کے اپنے قدم اٹھائیں۔یہ دیکھیں کہ مسلمانوں کے اختلاف کا یا ان کے ملکوں میں بے چینی اور بدامنی کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔لیکن انہیں سمجھ نہیں آتی۔پس ان مسلمان ممالک کے لئے ان دنوں میں بہت دعا کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔پھر دہشت گرد تنظیموں نے ان مغربی ممالک میں معصوم جانوں کو قتل کرنے کے انتہائی بہیمانہ اور ظالمانہ عمل کر کے اسلام کو بد نام کرناشروع کیا ہوا ہے۔یہ بھی بعید نہیں کہ اسلام کو بد نام کرنے کے لئے اسلام مخالف طاقتیں ہی غیر مسلم ممالک میں ایسی حرکتیں ان لوگوں سے کروارہی ہوں جس سے اسلام بھی بدنام ہو اور ان کو مدد کے نام پر، دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے نام پر ان ممالک میں اپنے اڈے قائم کرنے کے لئے ایک وجہ ہاتھ آجائے۔اگر صحیح اسلامی تعلیم سے یہ لوگ آگاہ ہوں علم ہو تو ان کو پتا ہونا چاہئے کہ یہ کوئی اسلامی تعلیم نہیں ہے کہ معصوموں کی قتل و غارت کی جائے۔ایئر پورٹوں پر، سٹیشنوں پر مسافروں کو اور بچوں کو ، عورتوں کو، بوڑھوں کو، بیماروں کو قتل کر دیا جائے۔چرچوں میں جا کر لوگوں اور پادریوں کو قتل کر دیا جائے۔قتل تو دور کی بات رہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو جنگ میں جو فوج بھجواتے تھے اسے بھی ہدایت ہوتی تھی کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں، پادریوں کو قتل نہیں کرنا۔ہر شخص جو ہتھیار نہیں اٹھاتا یا کسی بھی شکل میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنتا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا۔(ماخوذ از المعجم الاوسط للطبراني جزء3 صفحه 154 ، من اسمه على حديث 4162، دار الفكر عمّان ، اردن1999ء) (ماخوذ از شرح معانی الآثار جزج صفحہ 126 كتاب السير باب الشيخ الكبير هل يقتل في دار الحرب ام لا حديث 5067 مکتبه رحمانیه اردو بازار لاهور) پس یہ نہ ہی قرآن کریم کی تعلیم ہے، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم۔اور نہ ہی آپ کے اور آپ