خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 406

خطبات مسرور جلد 14 406 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 پس بڑوں کے لئے بھی اس سبق کی بچوں سے زیادہ اہمیت ہے۔آجکل کے دور میں جب ہم ان باتوں کو بھولتے جارہے ہیں اور تقویٰ سے بعض دفعہ بعض لوگ جو دُور ہٹ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کے بجائے لوگوں پر بھروسہ زیادہ ہو جاتا ہے ان کو یا درکھنا چاہئے کہ اصل بھروسہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہو نا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سب میں یہ تقویٰ پیدا ہو۔نماز کے بعد میں دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرم الحاج ڈاکٹر اور میں بنگو را صاحب نائب امیر اول سیرالیون کا ہے جو 3 مئی 2016ء کو مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔آپ نے بو (Bo) شہر کے سکول میں دوران تعلیم احمدیت قبول کی۔1966ء میں مجلس عاملہ کے ممبر بنے اور تاوفات کسی نہ کسی عہدے پر جماعتی خدمت کی توفیق پائی۔لمبا عرصہ بطور ڈپٹی امیر اول خدمات بجالا رہے تھے۔کامیاب مبلغ تھے۔بہت سے لوگوں کو آپ کے ذریعہ احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔مسجد سے گھر دور ہونے کے باوجود فجر اور مغرب و عشاء کی نمازیں مسجد میں آکر ادا کیا کرتے تھے۔چھٹی والے دن صبح سے عصر تک کا وقت مسجد میں گزارتے اور قرآن شریف کی تلاوت اور نوافل میں وقت صرف کرتے۔نماز جمعہ کے پابند اور ایم ٹی اے اور خلیفہ وقت کا خطبہ بڑی باقاعدگی سے سنتے۔ہر وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی نہ کوئی کتاب زیر مطالعہ رکھتے۔مدد کے طالب ہر شخص کی مدد کرتے۔پیشہ کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر تھے لیکن اس کے باوجو د جماعت کے لئے انہوں نے ہمہ وقت زندگی ایک لحاظ سے وقف ہی کی ہوئی تھی۔عقیل احمد صاحب ریجنل مشنری بو نے لکھا ہے کہ کسی بھی وقت احباب جماعت مدد کی درخواست لے کر آتے اور بجٹ میں گنجائش نظر نہ آتی تو آپ یعنی مشنری ایسے لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے جاتے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی آپ کے پاس مدد کے لئے آیا ہو اور اس کی مدد نہ کی ہو۔مرحوم نہایت شفیق و مہربان انسان تھے۔واقفین زندگی کا بڑی توجہ سے علاج کرتے۔جو دوائیں میسر ہو تیں اپنے پاس سے دے دیتے اور انہیں دعا کے لئے کہتے۔غرباء کا مفت علاج کرتے بلکہ آنے جانے کا خرچ بھی خود ادا کیا کرتے تھے۔بہت سے مریضوں کے ہر نیا کے آپریشن مفت کئے۔جب صحت ٹھیک نہ رہی اور کوئی مریض آجاتا تو اسے ہسپتال بھیجنے اور فیس خود ادا کرتے تھے۔آپ کے ذریعہ ایک مخلص احمدی ڈاکٹر الحاج شیخو تامو صاحب نے بیعت کی اور جماعت کو زمین کا ٹکڑا بطور تحفہ پیش کیا۔جب ڈاکٹر بنگور اصاحب کو پتا چلا کہ یہ بعد میں آکر قربانی میں آگے بڑھ گئے ہیں تو شہر کے درمیان میں مسجد کے لئے ایک جگہ جماعت کو دی۔اسی طرح مسجد کی تعمیر کے لئے پینتیس ملین لیون کی خطیر رقم بھی دی۔مرحوم احمدیت کے عاشق اور خلفاء احمدیت کے لئے نہایت اخلاص سے دعائیں کرنے والے بزرگ انسان تھے۔مرحوم موصی تھے اور دیگر تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔یہ وہ لوگ ہیں جو دور دراز ملکوں میں رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب ایمان لائے تو اس میں ترقی کرتے چلے گئے۔اللہ تعالیٰ