خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 405
خطبات مسرور جلد 14 405 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طور اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام" نے فرمایا کہ ایک بزرگ کہیں سفر پر جارہے تھے اور ایک جنگل میں ان کا گزر ہوا جہاں ایک چور رہتا تھا اور جو ہر آنے جانے والے مسافر کو لوٹ لیا کرتا تھا۔اپنی عادت کے موافق اس بزرگ کو بھی کوٹنے لگا۔بزرگ موصوف نے اسے فرمایا کہ وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (الذاريات: 23)" یعنی آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو بشر طیکہ نیکیوں پہ قائم رہو۔فرمایا کہ "تمہارا رزق آسمان پر موجود ہے۔تم خدا پر بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔چوری چھوڑ دوخد اتعالیٰ خود تمہاری ضرورتوں کو پورا کر دے گا۔چور کے دل پر اثر ہوا۔اس نے بزرگ موصوف کو چھوڑ دیا اور ان کی بات پر عمل کیا۔"آگے کہانی کا قصہ یہ ہے کہ " یہاں تک کہ سونے چاندی کے برتنوں میں اسے عمدہ عمدہ قسم کے کھانے ملنے لگے۔"کہاں تو وہ چوریاں کیا کرتا تھا اور کہاں چوری چھوڑ کے جب اللہ تعالیٰ پر توکل کیا تو کہانی یہ ہے کہ سونے چاندی کے برتنوں میں اسے کھانا ملنے لگا۔"وہ کھانے کھا کر برتنوں کو اپنی جھونپڑی کے باہر پھینک دیتا تھا۔اتفاقاً پھر وہی بزرگ کبھی ادھر سے گزرے تو اس چور نے جو اب بڑا نیک بخت اور متقی ہو گیا تھا اس بزرگ سے ساری کیفیت بیان کی اور کہا کہ مجھے کوئی اور آیت بتلاؤ۔تو بزرگ موصوف نے فرمایا کہ فَوَرَبِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَق (الذاريات:24)" که یعنی آسمان اور زمین کے رب کی قسم یقینا یہ حق ہے۔" یہ پاک الفاظ سن کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کا خیال کر کے تڑپ اٹھا اور اسی میں جان دے دی۔" تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آٹھ دس سال کے ایک بچے کو یہ کہانی سنائی اور پھر وہ آگے مضمون میں بچوں کو ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ۔تقویٰ اختیار کرنے سے کیسی دولت نصیب ہوتی ہے کہ وہ خد اتعالیٰ جو زمین اور آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے کیا اس کے ہونے میں کوئی شک ہو سکتا ہے ؟ وہ پاک اور سچا خدا ہے جو ہم سب کو پالتا ہے پوستا ہے۔پس اسی خدا سے ڈرو۔اس پر بھروسہ کرو اور نیک بختی اختیار کرو۔" (الحکم 13 ستمبر 1898ء جلد2 نمبر 26-27صفحہ 11) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بچوں کی یہ حالت تھی کہ ان کو یہ سبق دیئے جاتے تھے جو آجکل کے بڑوں کے لئے سمجھنے میں مشکل ہیں۔پس ہمیشہ ہم میں سے ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ تقویٰ پر چلنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اتنا یقین ہو اور اس پر قائم ہوں کہ وہی ہے جو ہماری پرورش کرنے والا ہے۔وہی ہے جو ہمیں پالتا پوستا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہی پاک اور سچا خدا ہے اور اسی سے ہمیں ڈرنا چاہئے اور اسی سے ہر وقت ہمیں مانگنا چاہئے اور اسی کے آگے ہمیں جھکنا چاہئے اور اسی پر ہمیں ہمیشہ بھروسہ کرنا چاہئے اور یہی نیکی ہے جو ایک مسلمان کے لئے اختیار کرناضروری ہے اور جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔