خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 19

خطبات مسرور جلد 14 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 شاید اور کسی کے ذہن میں بھی یہ سوال اٹھے کہ اتنی تحریکات ہیں۔ان کا کیا مقصد ہے ؟ تو اس بارے میں میں تھوڑی سی وضاحت کر دوں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ وقف جدید یعنی اس کے اخراجات مخصوص ملکوں اور مخصوص علاقوں کے لئے ہیں۔مغربی اور امیر ممالک سے وقف جدید کی مد میں جو چندہ آتا ہے وہ بھارت اور افریقہ کے عموماً دیہاتی علاقوں میں خرچ ہو تا ہے بلکہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع" نے جب یہ تحریک باقی دنیا کے لئے بھی عام کی تھی تو امیر ممالک میں وقف جدید کو جاری کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ہندوستان کے اور قادیان کے جو اخراجات ہیں وہ وقف جدید سے پورے کئے جائیں جبکہ تحریک جدید سے جو اخراجات کئے جاتے ہیں وہ دنیا کے ہر ملک میں جہاں مرکز سے مدد کی ضرورت ہو کئے جاتے ہیں۔کیونکہ رقم مرکز میں آتی ہے اور وہاں سے اخراجات کئے جاتے ہیں۔بہر حال وقف جدید کے ذریعہ سے بہت سے منصوبے غریب یا غیر ترقی یافتہ ملکوں میں سر انجام پارہے ہیں۔جنوری کے پہلے یا دوسرے جمعہ میں وقف جدید کے سال کا بھی اعلان ہوتا ہے اس لئے میں وقف جدید کے حوالے سے آج بات کروں گا اور نئے سال کا اعلان بھی کروں گا اور گزشتہ سال کی رپورٹ بھی پیش کروں گا جیسا کہ روایت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کا اٹھاونواں (58) سال 31 دسمبر 2015ء کو ختم ہوا اور اس سال کے دوران خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید میں احباب جماعت کو 68لاکھ 91 ہزار پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔اور یہ وصولی گزشتہ سال سے چھ لاکھ بیاسی ہزار ایک سو پچپن پاؤنڈ زیادہ ہے۔اس سال بھی پاکستان جو ہے وصولی کے لحاظ سے دنیا کی جماعتوں میں سر فہرست ہی ہے۔باقی ممالک کی پوزیشنیں بتانے سے پہلے میں وقف جدید کی کچھ تھوڑی سی تفصیل بھی بتانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ بتایا ہے کہ سال 2015ء میں وقف جدید میں 68لاکھ 91 ہزار پاؤنڈ کی وصولی ہوئی۔اس میں سے کل وصولی کا جو تیسر ا حصہ ہے وہ انہی ملکوں میں لگایا جاتا ہے۔یعنی یہ غیر ترقی یافتہ یا کم ترقی یافتہ یا غریب ممالک جو ہیں ان سے ہی وصولیاں ہو رہی ہوتی ہیں اس لئے اس کل وصولی کا تیسر ا حصہ ان ممالک سے آتا ہے اور انہی جگہوں پہ رہ جاتا ہے اور انہی ملکوں میں ان کے منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے۔بقایا جو دو حصے ہے اس میں سے بھی نصف قادیان اور بھارت کی جماعتوں کے لئے خرچ کیا جاتا ہے جیسا کہ حضرت خلیفہ رائع نے تحریک شروع کی تھی اور اس مقصد کے لئے کی تھی۔اور بقایا نصف، جو تیسر ا حصہ ہے وہ پھر افریقہ اور دوسرے ممالک میں خرچ ہوتا ہے۔ہندوستان میں اس سال میں بھی انیس (19) مساجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔دو مساجد زیر تعمیر ہیں۔اس سال 23 مشن ہاؤس بنائے گئے۔چار مشن ہاؤسز اس وقت زیر تعمیر ہیں۔اس کے علاوہ قادیان میں بھی جلسہ گاہ اور مختلف پراجیکٹس جو ہیں ان کی تعمیر ہوئی، ان پر خرچ ہوا۔نیپال بھی بھارت کے تحت ہی ہے۔یہاں سے وکالت تعمیل و تنفیذ کنٹرول کرتی ہے اور بھوٹان میں بھی یہیں سے کنٹرول ہوتا ہے۔بہر حال نیپال میں دو پختہ مساجد بنی ہیں اور دوعارضی شیڈ بنائے گئے۔