خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد 14 404 مخطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 اس کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی ہوتا ہے۔اب امریکہ سے ہی ایک اطلاع تھی کہ سویڈن کی نیوز ایجنسی ہے یا ٹیلیویژن ہے انہوں نے وہاں ہمارے نمائندے سے رابطہ کیا کہ سویڈن میں اسلام کے بارے میں اب کافی توجہ پیدا ہو رہی ہے تو ہم نے بھی اس لحاظ سے آپ کا انٹرویو لینا ہے کہ نہیں یہ کیا چیز ہے۔یہ کس وجہ سے ہے ؟ یہ بھی اللہ جانتا ہے۔تو اس طرح بھی توجہ پید اہورہی ہے۔میرے دورے کے دوران بھی وہاں لاکھوں لوگوں تک پیغام پہنچا۔تو بہر حال اشتہارات کے ذریعہ سے یا خبروں کے ذریعہ سے یا پریس کے ذریعہ سے بہت وسیع پیمانے پر پیغام پہنچتا ہے جو عام لٹریچر کے ذریعہ سے (انسان) نہیں پہنچا سکتا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے تو اب خواہ انہیں سال میں تین دفعہ کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں لیکن وہ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتالگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے۔" (الفضل 11 جنوری 1952 جلد 6 / 40 نمبر 10 صفحہ 4) اور اب ہم دیکھتے بھی ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں تو حرکت پید اہوتی ہے۔اس لئے بعض لوگ جو بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ اخباروں میں اشتہار دینے کا کیا فائدہ؟۔(انہیں بتارہاہوں کہ) اشتہار دینے کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان اخباروں کی سرکولیشن سے جماعت کا تعارف لوگوں میں پہنچتا ہے جبکہ لٹریچر آپ بڑی مشکل سے دو مہینے میں جتنا تقسیم کرتے ہیں ایک اخبار سے ایک دن میں وہ خبر بعض دفعہ اس سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخباروں کے ذریعہ جماعت کا تعارف ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا بہت جگہ پہ ہو رہا ہے۔جماعت کا پر لیں اور میڈیا کا جو شعبہ ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ وسیع پیمانے پر دنیا میں ہر جگہ ہو رہا ہے۔پس شعبہ تبلیغ کا بھی کام ہے کہ اس تعارف سے بھر پور فائدہ اٹھائیں اور اسلام کے حقیقی پیغام کو اس ذریعہ سے پھر آگے پہنچاتے رہیں۔یہ نہ ہو کہ ایک دفعہ اخبار میں آگیا اور ختم ہو جائے بلکہ آگے پھر شعبہ تبلیغ کا بھی کام ہے کہ اس ذریعہ کو تبلیغ کے لئے بھی استعمال کریں۔اس تعارف کو تبلیغ کے لئے بھی استعمال کریں اور اس کے لئے نئے نئے راستے ڈھونڈیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ بچوں کی تربیت کے لئے ایک مضمون لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک کہانی کا ذکر کیا۔آپ لکھتے ہیں کہ "جناب امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام نے 15 ستمبر 1898ء کو بعد نماز عصر میری درخواست پر مجھے مندرجہ ذیل کہانی سنائی جس سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنا اور سچا تقویٰ انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس کا