خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد 14 403 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 افضل ہیں اسے بیعت کرنے کی اجازت دے دی۔" آپ فرماتے ہیں کہ " در حقیقت بعض باتیں وقتی فتنے کے لحاظ سے بڑی ہوتی ہیں حالانکہ وہ اصل میں چھوٹی ہوتی ہیں اور بعض باتیں وقتی فتنے کے لحاظ سے چھوٹی ہوتی ہیں حالانکہ اصل میں وہ بڑی ہوتی ہیں۔پس وقتی فتنے کے لحاظ سے کبھی بڑی بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور چھوٹی بات پر ایکشن لے لیا جاتا ہے مگر ان لوگوں نے جو اعتراض کرنے والے ہیں " کبھی عقل سے کام نہیں لیا۔ان کا مقصد صرف اعتراض کرنا ہوتا ہے۔" (الفضل 13 ستمبر 1961ء جلد 50/15 نمبر 211 صفحہ 4) اور بہت سارے لوگ دوسرے کے لئے کہہ دیتے ہیں۔ان کے کچھ حمایتی پیدا ہو جاتے ہیں جن کو سزا ملتی ہے۔ان کو پتا نہیں ہو تا کہ اصل بات کیا ہے کس وجہ سے سزا مل رہی ہے ؟ تو اس لحاظ سے بلاوجہ دخل اندازیاں نہیں کرنی چاہئیں یا کسی کی سفارشیں نہیں کرنی چاہئیں۔ہاں جب نظام سمجھتا ہے جائزہ لیا جاتا ہے تو پھر ان کی معافی بھی ہو جاتی ہے۔اس قسم کے معترضین جیسا کہ میں نے کہا آجکل بھی ہیں۔غلط کام کرتے ہیں اور سزا ملے تو بجائے اصلاح کے مزید نظام کے خلاف بھی بولتے ہیں اور پھر یہ بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ویسے ہی رہیں گے اس کے باوجو د نظام جماعت ہمیں اپنا حصہ بنائے، ہم نے اصلاح نہیں کرنی۔یہاں دوبارہ بھی واضح کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیشک ترک سفیر کے لئے تو اس کی ضرورت کی چیز منگوا دی جو حرام تو نہیں جیسا کہ واقعہ میں بھی لکھا ہوا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حقہ نوشی وغیرہ بڑی نا پسند تھی اور بعض دفعہ آپ نے اس سے بڑی نفرت کا اظہار کیا ہے۔تبلیغ کے لئے کیا ذرائع استعمال کرنے چاہئیں اور کس طرح کرنی چاہئے اس بارے میں ایک موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ " اس وقت نظارت دعوت و تبلیغ پمفلٹ کے ذریعہ تبلیغ کرتی ہے۔" پمفلٹ تقسیم کئے جاتے ہیں، بروشر تقسیم کئے جاتے ہیں "لیکن پمفلٹ ایسی چیز ہے جس کا بوجھ زیادہ دیر تک نہیں اٹھایا جاسکتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعہ ہوتی تھی۔وہ اشتہارات دو چار صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچا دیا جاتا تھا۔ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔اس زمانہ کے لحاظ سے کثرت کے معنی ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات شائع کئے جاتے تھے لیکن " فرماتے ہیں کہ " اب ہماری جماعت بیسیوں گنازیادہ ہے۔اب اشتہاری پروپیگینڈہ یہ ہو گا کہ اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں پھر دیکھو کہ یہ اشتہارات کس طرح لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اب تو بعض جگہ بعض خبریں کئی کئی لاکھ تک پہنچ جاتی ہیں، میٹر تک پہنچ جاتی ہیں اور