خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد 14 402 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 کے اعتراض کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ہر زمانے میں ایسے اعتراض ملتے ہیں۔آج بھی یہ لوگ کرتے ہیں۔پہلے بھی کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ "حقیقت یہ ہے کہ نظام کی درستی کے لئے اتحادِ خیالات کا ایک دائرہ ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک اختلاف بڑا نظر آئے لیکن اگر وہ کسی فتنے کا موجب نہ ہو تو اس اختلاف رکھنے والے کو جماعت میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے۔لیکن ایک دوسرا شخص خواہ اس سے کم اختلاف رکھتا ہو لیکن اس کا اختلاف کسی فتنے کا موجب ہو تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے۔" فرماتے ہیں کہ " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ ایک دوست نے پوچھا کہ میں ابھی شیعیت سے نکل کر شیعہ تھا میں۔اور شیعیت سے نکل کر " آیا ہوں اور حضرت علی کو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے افضل سمجھتا ہوں " کیونکہ میرے پر شیعیت کا اثر زیادہ ہے۔" پس کیا اس عقیدے کے ہوتے ہوئے میں آپ کی بیعت کر سکتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں لکھا کہ آپ بیعت کر سکتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ چند آدمیوں کو سزا کے طور پر " قادیان سے باہر چلے جانے کا حکم دے دیا اور ان کے بارے میں اشتہار بھی شائع کیا مگر وجہ صرف یہ تھی کہ وہ پنجوقتہ نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا۔" حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ " اب بتاؤ حضرت علی و حضرت ابو بکر سے افضل سمجھنے اور حقہ پینے میں کونسی بات بڑی ہے۔لاز ماہر شخص یہی کہے گا کہ حضرت علی کو حضرت ابو بکر سے افضل سمجھنا بڑی بات ہے اور حقہ پینا چھوٹی بات ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بڑا اختلاف رکھنے کے باوجود ایک شخص کو اپنی بیعت کی اجازت دے دی اور حقہ پینے اور جنسی ٹھٹھا میں مشغول رہنے پر دوسروں کو مرکز سے چلے جانے کی ہدایت فرمائی۔حالانکہ " آپ بیان فرماتے ہیں ایک دعوت کے موقع پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا انتظام کیا تھا۔چنانچہ ترکوں کا سفیر حسین کامی جب قادیان میں آیا اور اس کے لئے دعوت کا انتظام کیا گیا۔"حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ۔میں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مجلس میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے ذکر کیا کہ یہ لوگ سگریٹ کے عادی ہوتے ہیں۔اگر ہم نے کوئی انتظام نہ کیا تو اسے تکلیف ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ایسی حرام چیزوں میں سے نہیں جیسے شراب وغیرہ ہوتی ہے۔پس آپ نے وہ چیز جو اس قسم کی حرمت نہیں رکھتی جیسی شراب اپنے اندر حرمت رکھتی ہے استعمال کرنے پر تو ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیا اور وہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں حضرت ابو بکر سے حضرت علی ہو افضل سمجھتا ہوں باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت ابو بکر حضرت علی سے